نماز تراویج کوئی جدا نماز نہیں ۔ دراصل نماز تہجد کی آٹھ رکعت کو اول وقت میں پڑھنے کا نام تراویج ہے اور یہ ہر دو صورتیں جائز ہیں جو سوال میں بیان کی گئی ہیں ۔آنحضرت ﷺ نے ہر دو طرح پڑھی ہے لیکن اکثر عمل آنحضرت ﷺ کا اس پر تھا کہ آپ پچھلی رات کو گھر میں اکیلے یہ نماز پڑھتے تھے ۔۱؎
بلا تا ریخ
فترت وحی
فرمایا :۔
وحی الہیٰ کا یہ قاعدہ ہے کہ بعض دنوں میں تو بڑے زور سے بار بار اسلام پر الہام ہوتے ہیں اور الہاموں کا ایک سلسلہ بند ھ جاتا ہے اور بعض دنوں میں ایسی خاموشی ہوتی ہے کہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس قدر خا موشی کیوں ہے اور نادان لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ اب خدا تعالیٰ نے ان سے کلام کرنا ہی چھوڑ دیا ہے ۔ نبی کریم ﷺ پر بھی ایک زمانہ ایسا ہی آیا تھا کہ لوگوں نے سمجھا کہ اب وحی بند ہو گئی چنانچہ کافروں نے ہنسی شروع کی اب خدا نعوذ باللہ ہمارے رسول کریم ( ﷺ) سے ناراض ہو گیا اور اب وہ کلام نہیں کرے گا ۔ لیکن خدا تعالیٰ نے اس کا جواب قرآن شریف میں اس طرح دیا ہے کہ وَالضُّحی۔ولّیلِ اذاسَجی۔مَا وَدَّ عکَ رَبک وَما قَلیٰ ( الضحیٰ :۲تا۴) یعنی قسم ہے دھوپ چڑھنے کے وقت کی اور رات کی ۔نہ تیرے رب نے تجھ کو چھوڑدیا اور نہ تجھ سے نارا ض ہوا ۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ جیسے دن چڑھتا ہے او ر اس کے بعد رات خود بخود آجاتی ہے اور پھر اس کے بعد دن کی روشنی نمودار ہوتی ہے اور اس میں خداتعالی کی خوشی یا ناراضگی کو کوئی بات نہیں ۔یعنی دن چڑھے سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ خدا تعالیٰ اس وقت خداتعالیٰ اپنے بندوں پر ناراض ہے بلکہ اس اختلاف کو دیکھ کر ہر عقلمند خوب سمجھ سکتا ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ قوانین کے مطابق ہو رہا ہے ۔ اور یہ اس کی سنت ہے کہ دن کے بعد رات رات کے بعد دن ہوتا ہے پس اس سلسلہ کو دیکھ کر یہ اندازہ لگا نا کہ اس وقت خدا تعالیٰ خوش ہے اور اس وقت نا راض ہے غلط ہے ۔
اسی طرح سے آجکل جو وحی الہیٰ کا سلسلہ کسی قدر بند رہا ہے تو اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ خدا تعالیٰ مجھ سے ناراض ہو گیا ہے یا یہ کہ اس نے مجھے چھوڑ دیا ہے۔بلکہ یہ اس کی سنت ہے کہ کچھ مدت تک وحی الہیٰ بڑے زور سے اور پے درپے ہوتی ہے اور کچھ دنوں تک اس کا سلسلہ بند رہتا ہے اور پھر شروع ہو جاتا ہے اور اس کی