ہے ۔ایک اہل الرائے ان کے حال سے بالکل ناامیدی ظاہر کرتا ہے۔ ہمارا ہتھیار دعا ہے :۔ دشمن بد اندیش صرف عداوت کے سبب ہماری ہر بات اور ہر فعل پر اعتراض کرتا ہے کیوں کہ اس کا دل خراب ہے اور جب کسی کا دل خراب ہوتا ہے تو پھر چاروں طرف اندھیرا ہی نظر آتاہے۔ یہ نادان کہتے ہیں کہ وہ اپنی جگہ پر بیٹھے ہیں اور کچھ کام نہیں کرتے۔ مگر وہ خیال نہیں کرتے کہ مسیح موعود کے متعلق کہیں یہ نہیں لکھا کہ وہ تلوار پکڑے گا اور نہ یہ لکھا ہے کہ وہ جنگ کرے گا بلکہ یہی لکھا ہے کہ مسیح کے دل سے کافر مریح گے یعنی وہ اپنی دعا کے ذریعہ سے تمام کام کرے گا۔ اگر میں جانتا کہ میرے باہر نکلنے سے اور شہروں میں پھرنے سے کچھ فائدہ ہوسکتاہے تو میں ایک سیکنڈ بھی یہاں نہ بیٹھتا مگر میں جانتا ہوں کہ پھر نے میں سوائے پائوں گھسانے کے اور کوئی فائدہ نہیں ہے اور یہ سب مقاصد جو ہم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ صرف دعا کے ذریعہ سے حاصل ہوسکیں گے۔ دعامیں بڑی قوتیں ہیں۔ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک بادشاہ ایک ملک پر چڑھائی کرنے کے واسطے نکلا ۔راستہ میں ایک فقیر نے اس کے گھوڑے کی باگ پکڑلی اور کہا کہ تم آگے مت بڑھو ورنہ میں تمہارے ساتھ لڑائی کروں گا۔ بادشاہ حیران ہوا اور اس سے پوچھا کہ تو ایک بے سرو سامان فقیر ہے تو کس طرح میرے ساتھ لڑائی کرے گا؟ فقیر نے جواب دیا کہ میں صبح کی دعائوں کے ہتھیار سے تمہارے مقابلہ میں جنگ کروں گا۔ بادشاہ نے کہا میں اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ یہ کہہ کر وہ واپس چلا گیا۔ غرض دعا میں خدا تعالیٰ نے بڑی قوتیں رکھی ہیں۔ خدا تعالیٰ نے مجھے بار بار بذریعہ الہامات کے یہی فرمایا ہے کہ جو کچھ ہوگا دعا ہی کے ذریعہ سے ہوگا۔ ہمارا ہتھیار تو دعا ہی ہے اور اس کے سوائے اورکوئی ہتھیار میرے پاس نہیں۔ جو کچھ ہم پوشیدہ مانگتے ہیں خدا تعالیٰ اس کو ظاہر کرکے دکھا دیتاہے ۔ گذشتہ انبیاء کے زمانہ میں بعض مخالفین کو نبیوں کے ذریعہ سے بھی سزا دی جاتی تھی مگر خدا جانتا ہے کہ ہم ضعیف اور کمزور ہیں۔ اس واسطے اس نے ہمارا سب کام اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ اسلام کے واسطے اب یہی ایک راہ ہے جس کو خشک ملا اور خشک فلسفی نہیں سمجھ سکتا۔ اگر ہمارے واسطے لڑائی کی راہ کھلی ہوتی تو اس کے لئے تمام سامان بھی مہیا ہوجاتے۔ جب ہماری دعائیں ایک نقطہ پر پہنچ جائیں گی تو جھوٹے خود بخود تباہ ہو جائیں گے۔ نادان دشمن جو سیاہ دل ہے وہ کہتا ہے کہ ان کو سوائے سونے اور کھانے کے اور کچھ کام ہی نہیں۔ مگر ہمارے نزدیک دعا سے بڑھ کر اور کوئی تیز ہتھیار ہی نہیں۔ سعید وہ ہے جو اس بات کو سمجھے کہ خدا تعالیٰ اب دین کو کس راہ سے ترقی دینا چاہتا ہے ۔ ۱؎