بر خلاف ہوں ۔ اس قسم کے الہامات کچھ چیز نہیں ۔دیکھو با رش کا پانی سب کو خوش کرتا ہے مگر پر نالہ کا پانی لڑائی ڈالتا ہے اور فساد پیدا کرتا ہے ۔ جن الہامات کی تائید میں خدا تعالیٰ کا فعل نہیں ہوتا اور نشانات الہیہ گواہی نہیں دیتے وہ ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے پر نالہ کا پانی مثلاً ایک شخص ایسا ہے کہ نہ اس کے سر پر پگڑی ہے اور نہ پاؤں میں جو تی پھٹے پرانے کپڑے اور ابترسی حالت ہے اور پھر کہے کہ میں با دشاہ ہو ں اور اس ملک کی سب فوجیں میرے کہنے پر عمل کرتی ہیں ۔ تو ایسا شخص سوائے سودائی کے اور کون ہو سکتا ہے ۔
یاد رکھو کہ قول بغیر فعل کے کچھ چیز نہیں اور یہ آیت کہ قُل کَفٰی باللّٰہ شَھیدً ابینی وبینَکم وَمن عندَہٗ علمُ الکتابِِ (الرعد:۴۴) اس میں ایک عجیب نکتہ ہے یعنی اگر خدا میری گواہی دیتا ہے تو مانو ورنہ نہ مانو ۔
اسی طرح براہین احمدیہ میں وہ الہام درج ہے جو خدا تعالیٰ نے مجھے کیا تھا اور یہ کہ کہ قُل عندی شَھَادَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ فَھَل آنتُم مُومنُونَ ۔قُل عندی شَھَادَۃمّن اللّٰہِ فَھَل انتُم مُّسلمُِونَ
یعنی ان کہ کہہ دے کہ میرے پاس میری سچائی پر خدا تعالیٰ کی گواہی ہے پس کیا تم نے خدا تعالیٰ کی گواہی قبول کرتے ہو یا نہیں ۔
خدا تعالیٰ کی شہادت
دیکھو براہین میں یہ سلسلہ الہٰی شروع ہی ہو تھا کہ ساتھ اس کے خدا تعالیٰ کی شہادت بھی موجود ہو گئی ۔ سارے انبیاء اولیاء کا اسی پر اتفاق ہے کہ بغیر کی شہادت کے دعویٰ کرنا جنون ہے ۔
سائیں صاحب نے کہا میں تو آپ کو مسیح اور مہدی مانتا ہوں اور دوسرے لوگوں کے پیچھے نماز بھی نہیں پڑھتا ہوں ۔یہ احمدی لوگ میرے پیچھے نماز نہیں پڑھتے اس کی با بت کیا حکم ہے ؟
حضرت اقدس نے فرمایا :۔
اگر توبہ کر لو اور زبان بند رکھو اور قال اللہ اور قال الرسول کے بر خلاف کوئی بات نہ کہو تو پھر یہ نماز پڑھ سکتے ہیں ۔ بغیر دلائل قویہ اور براہین قاطعہ کے دعویٰ کرنا ایسا ہی ہے جیسے آپنے آپ کو آگ میں ڈالنا یہ کہنا کہ میں فلاں نبی ہوں یا فلاں رسول سے افضل ہوں ۔یہ کفر کے کلمات ہیں ۔ دل پر تو کسی کی حکومت نہیں۔زبان سے ہی انسان کافر ہو جاتا ہے ۔دنیا میں زبان سے ہی سب کام چلتے ہیں ۔
زبان کا قابو میں رکھو
دیکھو عورت اور مرد کا آپس میں نکاح ہوتا ہے تو صرف زبان سے ہی اقرار لیا جاتا ہے اور صر فاتنا کہنے سے کہ میں تجھے طلاق دیتا ہوں ان کا یہ سب رشتہ ٹوٹ جاتا ہے ایسے ایسے دعوے کرنے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر وں کی تکذیب کرنا ہے