حضرت اقدس نے فرمایا :۔
میرا کام تو ایک حق کا پہنچا دینا ہے ۔ آگے فائدہ اور نقصان صرف تمہارے لئے ہوگا ۔ دوسرے کا اس سے کوئی تعلق نہیں ۔تم توبہ اور استغفار بہت کرو ۔اور رو رو کر خدا تعالیٰ سے دعائیں مانگو ۔
سائیں صاحب بولے کہ پھر جو مجھے سیر ہوتے ہیں اور عجیب عجیب مقامات دیکھنے میں آتے ہیں کیا یہ یونہی ہیں؟ اور کیا ان کی اصلیت کچھ بھی نہیں ؟
حضرت اقدس نے فرمایا کہ :َ۔
ہم کس سیر کے قائل ہیں
ایسی سیروں کا تو میں قائل ہی نہیں ۔ہم تو آنحضرت ﷺ کی سیر کے قائل ہیں ۔جنہوں نے لاکھوں کروڑوں انسانوں کے سر جھکا دئے قرآن مجید میں صاف لکھا ہے کہ شیطان کی طرف سے بھی وحی ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے بھی ہوتی ہے ۔جو وحی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے اس میں ایک تاج عزت پہنایا جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کے بڑے بڑے نشان اس کی تا ئید میں گواہ بن کر آتے ہیں ۔
سائیں صاحب نے آداب رسول کا لحا ظ نہ کرکے پھر قطع کلام کیا اور بولے کہ پھر میرے اخیتار میں کیا ہے ؟
حضرت اقدس نے فرمایا کہ :۔
تم قال اللہ اور قال الرسول پر عمل کرو اور ایسی باتیں زبان پر نہ لاؤ جن کا تمہیں علم نہیں ۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَلَاتقفُ مَا لَیسَ لَکَ بہِ علمٌ ( بنی اسرائیل :۳۷) تم نیکی کی طرف پورے زور سے مشغول ہو جاؤ اور اعمال صالحہ بجا لاؤ ۔اگر تمہاری حالت اس لائق ہو گئی اور تم نے پورے طور پر اپنا تزکیہ نفس کر لیا تو پھر خدا تعالیٰ کے مکالمہ مخاطبہ کا شرف بھی حاصل ہو سکتا ہے ۔ اکثر لوگ آجکل ہلاک ہو رہے ہیں ۔ان کی یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی حالت کا مطالعہ نہیں کرتے اور اس تعلق کو نہیں دیکھتے جو وہ خدا تعالیٰ سے رکھتے ہیں اور انہیں سوچتے کہ کس زور سے خدا تعالیٰ کی طرف جا رہے ہیں اور کیسے کیسے مصائب آنے پر ثابت قدم نکلے ہیں اور ابتلاؤں میں پورے اُترے ہیں ۔
انسان کو چاہیے کہ اپنا فرض ادا کرے اور اعمال صالحہ میں ترقی کرے ۔ الہام کرنا اور رؤیہ دکھانا یہ تو خدا تعالیٰ کا فعل ہے ۔اس پر ناز نہیں کرنا چاہئیے ۔اپنے اعمال کو درست کرنا چاہئیے ۔
خیر البر یہ کون ہیں
خد ا تعالیٰ فرما تا ہے ۔اِنَّ الَّذینَ اٰمنُوا وَعَمِلُوالصَّالحَاتِ اُلٓئکَ ھُم خَیرُ البَرِیَّۃِ ( البینۃ :۸) یہ نہیں کہا کہ جن کو کشوف اور الہامات ہوتے ہیں اور خیر البرینہ ہیں ۔یا د رکھو ۔ایسی باتیں ہر گز زبان پر نہ لاؤ جو قال اللہ اور قال الرسول کے