مجھ پر کیسے حلال ہو گئیں ؟ پھر شیطان نے کہا کہ اسے عبدالقادر تو میرے ہاتھ سے علم کے زور سے بچ گیا ورنہ اس مقام پر کم لوگ بچتے ہیں۔ یہ سنکر سائیں صاحب بول اُٹھے کہ میں کیا ہوں اور کس مرتبے پر ہوں اور میرا کیا حال ہے ؟ حضرت اقدس نے فرمایا کہ ۔ مجھے علم نہیں کہ تم کس مرتبہ پر ہو ۔ توبہ استغفار بہت کرو ۔ مُلہمین کے لئے نصیحت اور یہ باتیں صرف تمہارے لئے نہیں کہتا بلکہ ہر ایک کے لئے کہتا ہوں ۔ ہماری جماعت میں کوئی پچاس ساٹھ آدمیوں کے قریب ہونگے جو اس قسم کے دعوے کرتے ہیں ۔ دیکھو آنحضرت ﷺ نے جو صاحب وحی ہونے کا دعویٰ کیا تھا تو وہ بے نشان نہ تھا ۔کافروں نے جب ثبوت مانگا تھا کہ آپ کی وحی کے منجانب اللہ ہونے کی دلیل کیا ہے تو ان کو جواب دیا گیا تھا ۔ قُل کفٰی بِاللّٰہِ شَھِیدًا ابَینی وَبَینَکُم وَمن عندَہٗ علمُ الکتَاب( الرعد : ۴۴ ) کہہ کہ میرے پاس دو گواہیاں ہیں ۔ ( ۱) ایک تو اللہ تعالیٰ کہ اس کے تازہ تا زہ نشانات میری تائید میں ہیں اور (۲) دوسرے وہ لوگ جن کو کتاب اللہ کا علم دیا گیا ہے وہ بتا سکتے ہیں کہ میں سچا ہوں ۔ یا د رکھو اللہ تعالیٰ کا نام غیب بھی ہے وہ نہاں درنہاں اور پوشیدہ سے پو شیدہ ہے کسی کا حق نہیں کہ کسی بات کو خدا تعالیٰ کا الہام سمجھ لے جب تک کہ خد ا تعالیٰ کا فعل اس پر شہادت نہ دے ۔ شہادت کے بغیر تو کوئی کام نہیں چلتا ۔اگر شہادتوں یعنی خدا تعالیٰ کے نشانوں سے یہ بات ثابت ہو جاوے کہ یہ الہام خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے تو سب سے پہلے ایمان لانے والے ہم ہیں ۔اپنا قیل وقال تو قابل اعتبار نہیں ہوتا ۔خد ا تعالیٰ کے فعل کی اس کے ساتھ شہادت ہونی چاہیے۔ ہماری جماعت کے مولوی عبداللہ صاحب تیماپوری اپنے خطوط کے ذریعہ سے بہت کچھ الہامات اور کشوف لکھا کرتے تھے ۔آخر نتیجہ یہ ہوا کہ چند دنوں کے بعد ان کو جنون ہو گیا ۔ تھوڑے دن گذرے ہیں کہ قادیان میں آکر ایسے الہامات سے انہوں نے توبہ کی اور نیز میری بیعت کی ۔ میں مانتا ہوں کہ مکالمات الہٰیہ حق ہیں اور خدا تعالیٰ کے اولیاء مخاطبات اللہ سے شرف پاتے ہیں ۔لیکن یہ مقام بغیر تزکیہ نفس کے کسی کو حاصل نہیں ہو سکتا ۔اور بغیر تزکیہ نفس کے شیطان ان سے یاری کرتا ہے علاوہ اس کے سچے الہام کے لئے ہم پر تین گواہ ہوئے ۔ ( ۱)اپنی پاک حالت (۲) خدا تعالیٰ کے نشانوں کے ساتھ گواہی (۳) الہام کی کلام الہی سے مطابقت ۔ یہا پر پھر سائیں صاحب کہنے لگے کہ پھر میرے ایمان کیا حال ہے ؟