نشان نہ ہو اور بادشاہی سامان اور فوج سپاہ سے بالکل خالی ہو تو صرف یہ کہنے سے مجھے فلاں عہد ہ مل گیا ہے اس کی کچھ عزت نہیں ہوگی ۔
نبی کریم ﷺ معصوم اور خاتم الانبیاء تھے
ہمارا تو یہی ایمان ہے کہ آنحضرت ﷺ وہ معصوم نبی ہیں کہ جن پر تمام کمالات نبوت کے ختم ہو گئے ہیں اور ہر ایک طرح کا کمال اور درجہ انہیں پر ختم ہو گیا ہے اور ان پر وہ کامل اور جامع کتاب نازل کی گئی جس کے بعد قیامت تک کوئی اور شریعت نہیں آئے گی ۔وہ ایسی کلام ہے جس پر خد ا تعالیٰ کی مہر ہے اور جو ہزاروں فرشتوں کے ساتھ اور ان کی حفاظت میں آنحضرت ﷺ پر نازل ہوئی تھی ۔ اگر کوئی الہام ہو یا کشف ہو یا وحی ہوجب تک وہ اس کے ساتھ مطابقت نہ رکھے گی منجانب اللہ نہیں ٹھہر سکتی ۔اگر کوئی الہام یا وحی اس کے مطابق ہو اور ساتھ ہی تائید میں نشانات بھی رکھتی ہو تو سب سے پہلے ہم اس کو قبول کریں گے۔ ہمارا مقدور نہیں کہ ایک ذرہ بھر بھی چون وچرا کریں ۔
کشوف والہامات کی تین اقسا م
الہام کشف یا رؤیا تین قسم کے ہوتے ہیں ۔
( ۱) اول وہ جو خدا کی طرف سے ہوتے ہیں اور وہ ایسے شخصو ں پر نازل ہوتے ہیںجن کا تزکیہ نفس کامل طور پر ہو چکا ہوتا ہے اور وہ بہت سی موتوں اور محویت نفس کے بعد حاصل ہوا کرتا ہے اور ایسا شخص جذبات نفسانیہ سے بکلی الگ ہوتا ہے اور اس پر ایک ایسی موت وارد ہو جاتی ہے جو اس کی تمام اندرونی آلائشوں کو جلا دیتی ہے جس کے ذریعہ سے وہ خدا تعالیٰ سے قریب اور شیطان سے دو ر ہو جاتا ہے ۔ کیونکہ جو شخص جس کے نزدیک ہوتا ہے اسی کی آواز سنتا ہے
( ۲) دوسرے حدیث النفس ہوتا ہے جس میں انسان کی اپنی تمنا ہوتی ہے اور انسان کے اپنے خیالات اور آرزوؤں کا اس میں بہت دخل ہوتا ہے اور جیسے مثل مشہور ہے بلی کو چھیچھڑوں کی خوابیں وہی باتیں دکھائی دتیی ہیں جن کا انسان اپنے دل میں پہلے ہی سے خیال رکھتا ہے اور جیسے بچے جو دن کو کتابیں پڑھتے ہیں تو رات کو بعض اوقات وہی کلمات ان کی زبان پر جاری ہو جاتے یہی حال حدیث النفس کا ہے ۔
( ۳) تیسرے شیطانی الہام ہوتے ہیں ۔ان میں شیطان عجیب طرح کے دھوکے دیتا ہے کبھی سنہری تخت دکھاتا ہے اور کبھی عجیب وغریب نظارے دکھا کر طرح طرح کے خوش کن وعدے دیتا ہے ۔ایک دفعہ سید عبدالقادر رحمۃ اللہ علیہ کو شیطان اپنے زرین تخت پر دکھائی دیا اور کہا کہ میں تیرا خدا ہوں ۔میں نے تیری عبادت قبول کی ۔اب تجھے عبادت کی ضرورت نہیں رہی ۔ جو چیز اب اوروں کے لئے حرام ہے وہ سب تیرے لیے حلال کر دی گئی ہیں ۔سید عبدالقادر رحمۃ اللہ علیہ نے جواب دیا کہ دور ہو اے شیطان جو چیزیں آنحضرت ﷺ پر حلال نہ ہوئیں وہ