سے کچھ نشان ظاہر ہونگے اور عجیب تر یہ کہ حضرت اقدس سے مخا طب ہو کر یہ بھی کہنے لگ جاتے تھے کہ میں آپ کو مسیح اور مہدی سمجھتا ہوں اور ایسا اُولوالعزم امام مانتا ہوں کہ جیسا نہ آگے کبھی ہو اور نہ ہوگا اور ساتھ ہی آنحضرت ﷺ کی اتباع کا بھی دم بھرتے تھے ۔ غرض ایک فقرہ تو ایسا بولتے تھے جس سے معلوم ہوتا تھا کہ سائیں صاحب اپنے آپ کو تمام دنیا سے اعلیٰ اور زکی النفس خیال کرتے ہیں اور ساتھ ہی کل ذات اور کل فعل والے سبقوں کی عجیب عجیب تجلیات سناتے تھے لیکن پھر باتوں ہی باتوں میں اپنے آپ کو حقیر ذلیل اور کچھ کا کچھ سمجھنے لگ جاتے تھے ۔غرض بیچارے (خداتعالیٰ ) اپنے فضل وکرم سے ان پر رحم کرے ) پیچ در پیچ مشکلات میں پھنسے ہوئے تھے اور فیج اعوج کی مقر ر کردہ منزلوں کو طے کرتے کرتے عجیب وغریب اُتار چڑھاؤ میں مشغول تھے اور مصیبت پر مصبت پر تھی کہ اس قسم کے معاملات سے اپنے آپ کو سمجھنے لگ گئے تھے اور خود ستائی اور کبریائی کی منازل میں بھی کافی گذر چکے تھے ۔ اسی لئے وہاں کے احمدی احباب نے سائیں صاحب کو مخبوط الحواس اور پاگل خیال کر کے نماز کے لئے امام بنانا چھوڑ دیا اور اُن کے پیچھے نماز کا ادا کرنا ناجائز جانا ۔ سائیں صاحب موصوف کی اس قسم کی سر گذشت سنکر حضرت اقدس ( علیہ السلام ) نے فرمایا :َ
سچے الہام کی شناخت
اصل بات یہ ہے کہ دنیا میں مختلف طبقات کے انسان پائے جاتے ہیں مگر مسلمان تو انسان اسی صورت میں رہ سکتا ہے جب سچے دل سے کلمہ طیبہ لَآاِلَہَ اِلَّا اللّٰہُ مّحمدٌ رَّسُولُ اللّٰہپر ایمان لاوے اور پورے طور سے اس پر کار بند ہو جاوے ۔
اور اس کے بعد قرآن شریف پر ایمان رکھے کہ وہ خدا تعالیٰ کی سچی کامل کتاب ہے اور وہی ایک کلام ہے جس پر خد اتعالیٰ کی مہرہے ۔ انسا کو اسی کے مطابق عمل درآمد کرنا چاہئیے اور اسی کے بتائے ہوئے احکام پر چلنا اور آنحضرت ﷺ کے دکھائے ہوئے نمونہ پر کار بند ہونا یہی صراط مستقیم ہے اس کے سوائے کوئی تحریر کشف رویا یا الہام بغیر مہر کے جائز نہیں ۔جب تک کسی الہام پر خدا تعالیٰ کی مہر نہ وہ ماننے کے لائق نہیں ہوتا ۔
دیکھو قرآن شریف کو عربوں جیسے آشدِ کافر کب مان سکتے تھے اگر خدا تعالیٰ کی مہر اس پر نہ ہوتی ہمیں بھی اگر کوئی کشف رؤیا یا الہام ہوتا ہے تو ہمارا دستور ہے کہ اُسے قرآن مجید پر عرض کرتے ہیں اور اسی کے سامنے پیش کرتے ہیں ۔
اور پھر یہ بھی یاد رکھو کہ اگر کوئی الہام قرآن مجید کے مطابق بھی ہو لیکن کوئی نشان ساتھ نہ ہو تو وہ قابل قبول نہیں ہوتا ۔ قابل قبول الہام وہی ہوتا ہے جو قرآن مجید کے مطابق بھی ہو او ر ساتھ ہی اس کی تا ئید میں نشان بھی ہوں ۔اگر ایک شخص کہے کہ میں بادشاہ کے در بار سے فلاں عہدہ حاصل کر کے آیا ہوں لیکن اس کے ساتھ کوئی