میں ہے اس میں کوئی پچیدگی نہیں ۔ایک سیدھی راہ ہے جو خدا تعالیٰ نے ہم کو سکھلا دی ہے چاہئیے کہ آدمی قرآن شریف کو غور سے پڑھے ۔ اس کے امر اور انہی کو جداجدا دیکھ رکھے اور ان پر عمل کرے اور اسی سے وہ اپنے خدا کو خوش کر لے گا ۔باقی منطقیوں اور صوفیوں نے جو اصطلاحیں بنائیں ہیں وہ اکثر لوگوں کے واسطے ٹھوکر کا موجب ہو جاتی ہیں کیونکہ ان میںپیچیدگیاں اور مشکلات ہیں ۔
فرمایا :۔
ایک بزرگ نے جس پر ہم حسن ظن رکھتے ہیں کہ اس نے کسی نیک نیتی سے لکھا ہوگا ۔گو اس کا قول صحیح نہیں ہے یہ لکھا ہے کہ شیخ عبدالقادر جیلانی کامل نہ تھے کیونکہ ان کا پورے طور پر نزول نہ تھا صرف صعود تھا اسی وجہ سے ان سے بہت سی کرامتیں صادر ہوئیں ۔اگر نزول پورا ہوتا تو کوئی کرامت صادر نہ ہوتی ۔اس قول میں جس قدر تخالف قرآنی ہے وہ ظاہر ہے ۔یہ ایسا قول ہے کہ قرآن اور حدیث سے سراسر مخالف ہے در حقیقت شیخ عبدالقادر جیلانی خدا تعالیٰ کامل بندوں میں سے تھے ۔اگر ان پر معجزات کے متعلق اعتراض کیا جاوے تو پھر یہ اعتراض تمام انبیاء پر وارد ہوتا ہے ۔ یہ ان صوفیوں کی غلط اصطلاحوں کی پیروی کا نتیجہ ہے جن کی تصدیق قرآن وحدیث سے نہیں ملتی ۔
الہام بھول جانے میں حکمت الہٰی ہوتی ہے
فرمایا:۔
شاید ہی کوئی ایسی رات گذرتی ہو گی جس میں کوئی نظارہ آئندہ کے متعلق مجھے نہ دکھایا جاتا ہو ۔لیکن بہت سی باتیں صبح تک بھول جاتی ہیں اور توفیق ہی نہیں ہوتی کہ ان کو ایسے وقت لکھ لیا جاوے کہ پھر نہ بھُولیں ۔اس میں حکمت الہیٰ ہے و ہ جس بات کو چاہے یا درکھواتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بُھلوا دیتا ہے ۔۱؎
بلا تا ریخ
انذاری امورٹل سکتے ہیں
فرمایا :۔
خدا تعالیٰ ہر بات پر قادر ہے ۔ہمارا آزمودہ ہے کہ بعض دفعہ ایک الہام ہوتا ہے جو کسی پیشگوئی پر مشتمل ہوتا ہے اگر وہ انذاری امر ہوتا ہے اور ہم دعا میں مصروف ہو جاتے ہیں تو