بلا تاریخ
ڈاکٹروں کے لئے عبرت کے مواقع
مختلف قسم کی بیماریوں کا ذکر تھا ۔فرمایا :۔
ڈاکٹروں کے واسطے عبرت کے نظاروں سے فائدہ حا صل کرنے کے لئے بہت موقعہ ہوتا ہے ۔قسم قسم کے بیمار آتے ہیں ۔بعض کے ہاتھ پاؤں کا ٹ دئیے جاتے ہیں ۔بعض کی ایسی حالت ہوتی ہے کہ شدت بیماری کے سبب لَا مِنَ الآ حیَا ئِ وَلَا منَ الاموَاتِ نہ زندوں میں داخل نہ مردوں میں لیکن ایسے نظاروں کو کثرت کے ساتھ دیکھنے سے سخت ولی بھی پیدا ہو جاتی ہے ۔اور ضروری بھی ہے کیونکہ نرم دل اور رقیق القلب ایسا کام نہیں کر سکتا کیونکہ سر جری کا کام بہت حوصلے کا کام ہے ۔
اس زمانہ کے ملاں
فرمایا :۔
اس زمانہ کے ملانوں کو بھی مردوں کے عبر ت انگیز نظاروں کو بہت دیکھنا پڑتا ہے ۔لیکن افسوس ہے کہ وہ بھی سخت دل ہو گئے ہیں ۔ کلکتہ میں ایک ملاں کا ذکر اخبار میں لکھا ہے کہ اس پر کسی قرضخواہ نے نالش کی تو اس نے جواب دعویٰ لکھا کہ امسال کلکتہ کی صحت اچھی رہی اور لوگ بہت نہیں مرے اس واسطے میں کچھ دے نہیں سکتا ۔البتہ بسبب قحط وبااگلے سال لوگوں کے بہت مرنے اور معقول آمدنی حاصل ہونے کی اُمید ہے پھر قرضہ ادا کیا جائے گا ۔ایسا ہی اس جگہ دو ملانوں کے درمیان جو بھائی تھے باہمی تنازے ہونے پر ان کے درمیان مسلمانوں کے گھر وں کی تقسیم کر دی گئی تو ایک ملاں اس بات پر ناراض ہو ا کہ جو لوگ میر ے حصے میں آئے ان کے قد چھوٹے ہیں اور ان کے کفن پر سے جو چادر اتر یگی وہ چھوٹی ہو گی ۔ اس قدر رذالت ان لوگوں میں آگئی ہے ۔ اللہ تعالیٰ رحم کرے ۔
ایک آیت کا القائی ترجمہ
فرمایا :۔ آیت قرآنی قَد اَفلَحَ من رَکَّھا وَقد خابَ مَن وَسَّھَا (الشمس:۱۰۔۱۱) کا ترجمہ میں اردو میں ایک دفعہ سوچتا تھا تو یہ شعر لکھا گیا ۔؎
کوئی اس پاک سے جو دل لگاوے ۔ کرے پاک آپ کو تب اس کو پاوے
تصوف کی غلط اصطلاحات
فرمایا :۔
سیدھی اور سچی اور سادہ عام فہم منطق وہ ہے جو قرآن شریف