بسا اوقات مثلاً ایک گھنٹہ کے بعد وہ منسوخ ہو جاتا ہے اور بات خدا تعالیٰ کے دوسرے حکم سے ٹل جاتی ہے ۔ فرشتوں کے ذریعہ سے الہام فرمایا کہ :َ۔ بعض الہامات کے وقت اگر چہ فرشتہ نظر نہیں آتا تاہم الفاظ کے معانی سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کلام فرشتے کے ذریعہ سے نازل ہوا ہے ۔مثلاً الہامات میں ایسے الفاظ کہ قَالَ رَبُّکَ اور مَا نَتَنَزَّلُ اِ لاَّ بآمررَبِّکَ ( مریم : ۶۵) قادیان کی تاریخی حیثیت فرمایا کہ :۔ اس قادیان میں پا نچ سو حا فظ قرآن شریف کے رہتے تھے اس وقت اس جگہ کا نام اسلام پور تھا ۔اب یہاں کیا ہندوستان کے بڑے بڑے شہروں میں بھی اس قدر تعداد حفاظ نہیں مل سکتی ۔ اس جگہ کی اسلامی شوکت کو سکھوں نے خراب کر دیا تھا ۔یہاں بہت سے سکھ رہتے تھے جن میں سے بعض نے سید احمد صاحب کے ساتھ بھی لڑائیاں کی تھیں مگر رفتہ رفتہ وہ سب مر گئے اور اب دو چار باقی ہو ں گے ۔ جہاد کی حقیقت فرمایا :۔ جہاد کا مسئلہ بھی ہمارے مولویوں نے کچھ اُلٹا ہی سمجھا ہے ۔قرآن شریف اور احادیث اور آنحضر ت ﷺ کے سوانح سے کہیں ایسا نہیں معلوم ہوتا کہ کوئی اس قسم کا جہاد اسلام میں جا ئز ہو یا کبھی کیا گیا ہو کہ کفار کو زبردستی مسلمان بنایا جائے ۔تیرہ سال تک آنحضر ت ﷺ اور آپ ؑ کے صحابہ ؓ نے کفار کے ہاتھوں سے دُکھ اُٹھایا ۔جب کفار کی زیادتیاں حد سے بڑ ھ گئیں تب اجازت ہوئی کہ ان لوگوں کو قتل کرو جو تم کو قتل کرتے ہیں اور بسبب مظلوم ہونے کے مسلمانوں کو بھی اجازت دی گئی کہ ہاتھ اُٹھائیں ۔سارا خلاصہ جہاد کا یہی ہے اور جز یہ جو بہت ہی قلیل رقم کا ٹیکس ہے خود اس بات کا ثبوت کرتا ہے کہ کفار کو اپنے ماتحت امن کے ساتھ رکھنے کا اسلامیوں کا حکم تھا ۔اس بات پر حضرت مولوی نورالدین صاحب نے کہا کہ قرآن شریف میں جو یہ آیت ہے ۔ وَلَولَا دَفع اللّٰہِ الناسَ بَعضَھُم ببعضِِ لَّھُدِّمَت صواَسِعَ وَبیَعٌ وَّصَلَوتُ وَّمسٰجِدُیُذکَرُفیھَا اسمُ اللّٰہ کَثیرًا وَلَیَنصُرَنَّ اللّٰہُ من یَّنصُرُہٗ اِنَّ اللّٰہ لَقَؤِي عَزِیرٌ (الحج :۴۱) اس آیت سے بھی ثابت ہو تا ہے کہ مذہب کی خا طر جنگ کرنا اور دوسرے مذاہب کو تلوار کے ذریعہ سے منہدم کرنےکی