اللّٰہِ حَصَبُ جَھَنَّمَ ( الانبیاء :۹۹ ) تم اور تمہارے معبود جہنم کے لائق ہیں تو کفار ایسی مخالفت نہ کرتے مگر اپنے معبودوں کے حق میں ایسے کلمات سنکر وہ جوش میں آگئے ۔ پہنچاب میں سب سے زیادہ مخالفت ہوئی اور اسی جگہ خدا تعالیٰ نے سب سے زیادہ جماعت بھی بنائی ہے ۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ پہلے لوگ امت واحدہ ہوتے ہیں پھر نبی کے آنے سے ان میں اختلاف پیدا ہو جاتا ہے ۔ابوجہل نے آنحضرت ﷺ کے سا تھ جو مباہلہ کیا تھا اور آخری دعا کی تھی کہ اے خدا جس نے ملک میں فساد پید ا کر رکھا ہے اور قطع رحم کرتا ہے آج اس کو ہلاک کر دے جس کے نتیجہ میں وہ خود ہلاک ہوا ۔ اس کی دعا ظاہر ہے کہ آنحضرت ﷺ کی بعثت سے ملک کی کیا حالت ہو گئی تھی اور باہمی فساد کو کفار کس کی طرف منسوب کرتے تھے جب شور اُٹھتا ہے تو ایسے آدمی بھی پیدا ہو جاتے ہیں جو انصاف کی پابندی کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ سے ڈرتے ہیں مخالفین انبیاء کی عادت ہے کہ رسم وعادت کی پیروی کرتے ہوئے ایک بات پر اڑ جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ سے اُمید منقطع کر کے اسی پر فیصلہ کر لیتے ہیں کہ ہم اسی پر مر جائیں گے خواہ کچھ ہی ہو ۔ مگر خدا تعالیٰ انہی لوگوں میں سے سعید الفطرت انسان بھی پیدا کر دیتاہے ۔ احمدی نام کی وجہ ذکر آیا کہ بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ مرزا صاحب نے اپنی جماعت کا ایک الگ نام احمدی کیوں رکھ لیا ہے ۔ فرمایا :۔ یہ نام تو صرف شناخت کے واسطے ہے جیسا کہ مسلمانوں میں بہت سے فرقے ہیں ۔کوئی اپنے آپ کو حنفی کہتا ہے کوئی شافعی اہلحدیث وغیرہ ۔چونکہ اس وقت آنحضرت ﷺ کے جمالی نام احمد کا ظہور ہو رہا ہے اس واسطے اس جماعت کا نام احمدی ہوا ۔اور یہ نام اسی زمانہ اور اسی جماعت کے واسطے مقدر تھا اس سے پہلے اگر چہ بعض ایسے آدمی ہوئے جو کسی جماعت کے امام بنے اور ان کے نام میں احمد کا لفظ تھا مگر کبھی خدا تعالیٰ نے کسی جماعت کا نام احمدی نہ ہونے دیا ۔ مثلاً امام احمد بن حنبل تھے ان کی جماعت حنبلی کہلائی ۔سید احمد برہلوی تھے تو ان کی جماعت مجاہدین کہلائی ۔سید احمد علیگڈھ کے تھے تو اُن کے ہمخیال نیچری کہلائے ۔ علی ہذالقیاس اور کسی کا نام کبھی احمد نہیں ہوا ۔۱؎