نہ کوئی کشش ہے۔ برخلاف اس کے رنڈیوں کے راگ میں خراب کاروں کے واسطے ایک لذت ہے گووہ ظاہری ہے اور بدی کی طرف ہے۔ مگر لوگ ایک ظاہری لذت کی طرف کھنچے چلے جاتے ہیں۔ اگر واعظین کے وعظ میں کشش اور لذت ہوتی تو وہ سب کو کھینچ کر اپنی طرف لے آتے۔ ہر ایک مصلح‘ریفارمر‘ ولی‘ نبی میں چار باتوں کا ہونا ضروری ہے۔
اول اس میں ایک بصیرت ہو جس سے وہ علمی مسائل کوایسے رنگ میں پیش کرے جس سے سننے والوں کو ایک لذت حاصل ہو۔ کیوں کہ نامعقول بات سے انسان کے دل میں ایک خلش رہتی ہے اور معقول بات خواہ مخواہ پسندیدہ ہوتی ہے اور اس میں ایک لذت ہوتی ہے جیسا کہ شربت میں طبعاً ایک لذت محسوس ہوتی ہے۔
دوم یہ کہ اس میں ایک عملی طاقت ہو۔ خود عالم باعمل ہو۔ صدق ‘وفا اور شجاعت اس میں پائی جاتی ہو‘کیوں کہ جو شخص خود عمل کرنے والا نہیں۔ اس کا اثر دوسروں پر ہرگز نہیں ہوسکتا۔
سوم یہ کہ اس میں کشش ہو۔ کوئی نبی نہیں جس میں قوت جاذبہ نہ ہو۔ ہر ایک مامور کو ایک قوت جاذبہ عطا کی جاتی ہے کہ وہ اپنی جگہ بیٹھا ہوا دوسروں کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور لوگ اس کی طرف کھنچے ہوئے چلے آتے ہیں۔
چہارم یہ کہ وہ خوارق اور کرامات دکھائے اور نشانات کے ذریعہ سے لوگوں کے ایمان کو پختہ کرے۔ ان وعظ کرنے والے لوگوں میں ان باتوں میں سے کوئی ایک بات بھی نہیں پائی جاتی ۔
ضرورت امام :۔
نادان لوگ کہتے ہیں کہ امام کی ضرورت کیا ہے ؟ سب لوگ نماز حج وغیرہ فرائض اپنی اپنی جگہ ادا کررہے ہیں ۔ مگر یہ لوگ جھوٹ کہتے ہیں۔ فی زمانہ ان کے درمیان نہ اندرونی خوبیاں ہیں اور نہ بیرونی ۔ اللہ تعالیٰ نے جو اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ میں ایسے لوگوں کا ذکر کیا وہ انعامات ان کے درمیان کہاں پائے جاتے ہیں۔ یہ لوگ تو خود ہی تاریکی میں پڑے ہوئے ہیں۔ اخلاق خراب ہیں۔ اعمال خراب ہیں۔ ایمان نہیں۔ دین صرف ایک رسم رہ گیا ہے جس میں خالی استخوان ہے اور مغز نہیں۔ بیرونی حملوں کایہ حال ہے کہ کوئی خاندان ایسا نہیں جس میں کوئی نہ کوئی مرتد نہ ہوگیا ہو۔ وہ جو مسلمانوں کے گھر میں پیدا ہوئے تھے اور جن کے کانوں میں لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ کا کلمہ پڑھاگیا تھا۔اب گرجوں میں بیٹھ کر ایک خدا کے ساتھ دوسرے اور تیسرے خدا بناتے ہیں۔ اور مردوں کی پرستش کرتے ہیں اور آنحضرت ﷺ کو (نعوذ باللہ) گالیاں دیتے ہیں۔ اسلامی سلطنتوں کایہ حال ہے کہ سب سے زیادہ فخر سلطان روم پر کیا جاتا ہے جو رات دن یورپ کی سلطنت سے خوفزدہ رہتا ہے اوربمشکل اپنی زندگی کے دن کاٹ رہا ہے وہ کونسی خوش قسمتی کی بات ہے جو اس وقت مسلمانوں کے درمیان پائی جاتی ہے۔ ہر پہلو سے ان کے حالات پر رونا آتا