بلا تاریخ۲؎
مخالفت مفید ہو تی ہے
ذکر ہوا کہ کشمیر میں ایک بڑا مولوی میرواعظ ہے وہ پہلے اس سلسلہ کے متعلق خا موش تھا ۔ مگر جب سے مولوی عبداللہ صاحب نے اس کو مخاطب کر کے اشتہارات دئیے وہ بھی اپنے وعظ میں مخالفت کرنے لگا ہے ۔
حضرت نے فرمایا :۔
اس معاملہ میں مولوی عبداللہ کی کاردانی درست تھی ۔مخالفت سے ڈرنا نہیں چاہئے بلکہ اس سے فائدہ ہوتا ہے ۔یہی قدیم سے سنت چلی آتی ہے ۔جب کبھی کوئی نبی پیدا ہوتا ہے لوگ اس کی مخالفت شروع کر تے ہیں سب وششم سے کام لیتے ہیں ۔ اسی ضمن میں کتابوں کے دیکھنے اور صحیح حالات کے سننے اور معلوم کرنے کا بھی انکو موقعہ مل جاتا ہے ۔ دنیا کے کیڑے جو اپنے دنیاوی کاموں میں مستغرق ہوتے ہیں ان کو فرصت ہی کہاں ہے کہ دینی امور کی طرف متوجہ ہوں لیکن مخالفت کے سبب ان کو بھی غور وفکر کرنے کا موقعہ مل جاتا ہے اور ان کے شوروغل کے سبب دوسرے لوگوں کو بھی اس طرف توجہ ہو جاتی ہے کہ دیکھنا چاہئیے کہ اصل میں بات کیا ہے ۔کئی لوگوں کے ہمارے پاس خطوط آئے کہ مولوی محمد حسین یا مولوی ثناء اللہ وغیرہ کا انہوں نے نام لیا کہ ان کی مخالفانہ تحریر یں اور کتب پڑھ کر ہمیں اس طرف خیال ہوا کہ آخر مرزا صاحب کی تحریر بھی منگو ا کر دیکھنی چاہئیے اور جب آپ کی کتاب پڑھی تو اس کی روحانیت سے پر پایا اور حق ہم پر کھل گیا ۔
جن انسان توجہ کرتا ہے ت اس کا دل انصاف خود اُسے ملزم کرتا ہے ۔جہاں مخالفت کی آگ بھڑکتی ہے اور شور اُٹھتا ہے اس جگہ ایک جماعت پیدا ہو جاتی ہے۔انبیاء سے پہلے تمام لوگ نیک وبدبھائی بھائی بنے ہوئے ہوتے ہیں ۔نبی کے آنے سے ان کے درمیان ایک تمیز پیدا ہو جاتی ہے سعید الگ ہو جاتے اور شقی الگ ہو جاتے ہیں ۔اگر آنحضرت ﷺ مخالفین کو یہ کلمہ نہ سناتے کہ اِنکم وَمَا تَعبُدُونَ من دوُنِ