کشمیر میں حضرت مسیح علیہ السلام کی قبر
ابو سعید عرب صاحب جو حال میں کشمیر کی سیاحت سے واپس آئے ہیں ۔انہوں نے حضرت اقدس ( علیہ السلام ) کی خدمت میں عرض کی کہ کشمیر کے اندر عام لوگ تواب تک حضرت عیسیٰؑ کی قبر کو پہلے کی طرح نبی صاحب کی قبر یا عیسیٰ ؑ کی قبر کہتے ہیں مگر وہاں کے علماء جو اس سلسلہ احمدیہ کے حالات سے آگا ہ ہو گئے ہیں ۔انہوں نے بسبب عداوت اب ایسا کہنا چھوڑ دیا ہے تا کہ اس فرقہ کو مدد نہ ملے ۔
حضرت نے فرمایا : ۔
اب ان لوگوں کی ایسی کاروائیوں سے کیا بنتا ہے جب پرانی کتابیں جو کشمیر میں اور دوسری جگہوں میں موجود ہیں ۔ا ور ایک عربی پرانی کتاب گیارہ سو برس کی جو کسی فاضل شیعہ کی تصنیف ہے ۔ اس میں یوُز آسف کو شاہزادہ نبی لکھا ہے اور اس کی قبر کشمیر میں بتلائی ہے اور اس کا وقت بھی وہی لکھا ہے ۔جو کہ حضرت عیسی علیہ السلام کا وقت تھا ۔ عیسائی بھی تو یہاں تک قائل ہو گئے ہیں ۔کہ وہ حضرت عیسیؑ کا حواری تھا اور اس کے نام پر سسلی میں ایک گرجا بھی بنا ہوا ہے ۔ لیکن اب سوال یہ ہے کہ وہ حواری کون تھا جو شہزادہ بھی کہلایا اور نبی بھی کہلایا ہو ؟ اس کا جواب عیسائی نہیں دے سکتے ۱؎ ۔