اور اگر حضرت عیسیٰ کے مرنے پر ان لوگوں کو طیش آتا ہے تو یہ سچی بات ہے کہ ہو مر گئے ہیں اور سب انبیاء مرتے ہی آئے ہیں ۔ آخر یہ لوگ بھی تو مانتے ہیں کہ وہ دو بارہ آکر مریں گے پھر تکفیر کے کیا معنے ؟
الزامی جوابات دینے کی وجہ
باقی رہا یہ کہ عیسائیوں کو جواب دیتے وقت بعض اوقات سخت الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں تو یہ بات بالکل صاف ہے جب ہمارا دل بہت دکھایا جاتا ہے اور ہمارے نبی کریم ﷺ پر طرح طرح کے ناجائز حملے کئے جاتے ہیں تو صرف متنبہ کرنے کی خا طر انہیں کی مسلمہ کتابوں سے الزامی جواب دئیے جاتے ہیں ان لوگوں کو چاہئیے کہ ہماری کوئی بات ایسی نکالیں جو حضرت عیسیٰ کے متعلق ہم نے بطور الزامی جواب کے لکھی ہو اور وہ انجیل میں موجود نہ ہو ۔آخر یہ تو ہم سے نہیں ہو سکتا کہ آنحضرت ﷺ کی توہین سنکر چپ رہیں اور اس قسم کے جواب تو خود قرآن مجید میں پائے جاتے ہیں جیسے لکھا ہے ۔اَلکُمُ الذَّکَرُوَلَہُ الاُنثی (النجم :۲۲) فَا ستَفتِھم اَلرَبَّکَ البنَاتُ وَلَھُم البَنُونَ ( الصّٰفَٰت : ۱۵)
وہ لوگ فرشتوں کو خدا تعالیٰ کی بیٹیاں کہتے تھے ۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا تمہارے بیٹے اور ہماری بیٹیاں ؟
غرض الزامی رنگ کے جواب دینا تو طریق منا ظرہ ہے ۔ ورنہ ہم حضرت عیسی کو خدا تعالیٰ کا رسول اور ایک مقبول اور برگزیدہ انسان سمجھتے ہیں اور جن لوگوں کا دل صاف نہیں اُن کا فیصلہ ہم خدا پر چھوڑتے ہیں ۱؎
بلا تا ریخ
بد دعا دینا اچھا نہیں
فرمایا کہ :۔
ذرا ذرا اسی بات پر بد دعا دینا اچھا نہیں ہوتا کیونکہ حدیث میں حکم آیا ہے کہ صبر کرو ۔جو لوگ ذرذرا سی بات پر بد دعا دیتے ہیں اکثر نہیں پشیمان ہونا پڑتا ہے کیونکہ اس وقت تو وہ جوش میں آکر کچھ کا کچھ کہہ دیتے ہیں اور پیچھے جب سوچتے ہیں تو خود ان کا نفس ان کو ملامت کرتا ہے کہ اس قدر خفیف معاملہ پر اس قدر خفگی اور ناراضی دکھائی جو اخلاق کے سراسر خلاف ہے ۔
حرام وحلال
فرمایا :۔
جو چیز بُری ہے وہ حرام ہے وہ چیز پاک ہے وہ حلال ۔خدا تعالیٰ کسی پاک چیز کو