حرام قرار نہیں دیتا بلکہ تمام پاک چیزوں کو حلال فرماتا ہے ۔ہاں جب پاک چیزدوں ہی میں بُری اور گندی چیز ملائی جاتی ہیں تو وہ حرام ہو جاتی ہیں ۔ اب شادی کودف کے سا تھ شہرت کرنا جائز رکھا گیا ہے لیکن اس میں جب ناچ وغیرہ شامل ہو گیا تو وہ منع ہو گیا ۔اگر اسی طرح پر کیا جائے جس طرح نبی کریم ﷺ نے فرمایا تو کوئی حرام نہیں ۔ خدا تعالیٰ کے فیصلوں پر انشراح برادرم۱؎مبارک احمد کی وفات پر فرمایا کہ :َ۔ خداتعالیٰ اتنی مدت سے ہم پر رحم کرتا آیا ہے ۔ہر طرح سے ہماری خواہش کے مطابق کام کرتا آیا ہے اور اُس نے اٹھارہ برس کے عرصہ میں ہم کو طرح طرح کی خوشیاں پہنچائیں اور انعام واکرام کئے ۔ گویا اپنی رضا پر ہماری رضا کو مقدم کر لیا ۔پھر اگر ایک دفعہ اس نے اپنی مرضی ہم سے منوانی چاہی تو کون سی بڑی بات ہے ۔اگر ہم باوجود اس کے اس قدر احسانات کے پھر بھی جزع فزع اور واویلا کریں تو ہمارے جیسا احسان فراموش کوئی نہ ہوگا ۔اور پھر اس نے تو پہلے ہی اطلاع دے دی تھی کہ جلد فوت ہو جائیگا ۔جیسا کہ تریاق القلوب میں لکھا ہے ۔ دوسرے یہ کہ دوستی تو اسی کو کہتے ہیں کہ کچھ دوست کی با تیں مانی جاویں اور کچھ اس کی منوائی جاویں یہ تو دوستی نہیں کہ اپنی ہی منواتے جانا ۔ اور جب دوست کی بات ماننے کا وقت آئے تو بُرا منانا ۔پس جب کہ ہم نے خداتعالیٰ سے تعلق کیا ہے تو چاہئیے کہ کچھ اس کی مانی اور کچھ اس سے منوائیں ۔۲؎ ( منقول ازتشحید الاذہان جلد ۲ نمبر ۹ ) بلا تا ریخ (القول الطیب ) مغربی اقوام کے بارہ میں پیشگوئیوں کا ظہور جنگوں میں کام آنے والے نئے بیلوں کا ذکر تھا اور اس کا امر کا ذکر تھا کہ بعض انگریز اس تجویز میں ہیں کہ مریخ سیارے کے لوگوں سے باتیں کی جا ویں ۔ فرمایا :۔