اسی طرح یہ لوگ کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ آسمان پر زندہ موجود ہیں ۔ ہم ایمان لاتے ہیں کہ کوئی بشر آسمان پر نہیں جا سکتا ۔قرآن مجید میں صاف طور پر سبحان رَبی ھَل کُنت اِلاَّ بشراً رَسُولًا ( بنی اسرائیل :۹۴) لکھا ہے اور پھر اسی قرآن مجید میں فَلماَتَوَفَّیتنیبھی درج ہے ۔اگر حضرت عیسی دوبارہ دنیا میںآئے ہوتے کسر صلیب کی ہوتی کافروں کو قتل کیا ہوتا ۔تو کیا اُن کو قیامت کے دن خدا تعالیٰ کے حضور میں یہی جواب دینا چاہئیے تھا کہ مجھے عیسائیوں کے بگڑنے کی خبر نہیں ؟ باوجود یہ کہ دوبارہ آکر انہوں نے کا فروں اور مشرکوں کو مسلمان کیا ۔
اپنے ذاتی مشاہد سے تمام حالات معلوم کر لئے مگر خدا تعالیٰ کے رو برو کہیں کہ کہ مجھے عیسائیوں کے بگڑنے کی خبر نہیں ۔کیا وہ خدا تعالیٰ کے عرش کے سامنے جھوٹ بولیں گے اور خدا تعالیٰ خا موش ہو رہے گا ؟ کیا خدا تعالیٰ اتنا بھی نہیں کہے گا کہ تم کیوں جھوٹ بولتے ہو۔ تم تو دوبارہ دنیا میں گئے تھے ۔ عیسائیون کو تم نے مسلمان کیا تھا پھر یہ کیوں کہتے ہو کہ اس کی خبر نہیں ؟ ہم تو دیکھتے ہیں کہ ادنی عدالتوں میں بھی انسان حلف دروغی کے با عث پکڑا جاتا ہے تو کیا خدا تعالیٰ کی در گاہ میں جھوٹ کر پر سش نہیں ہو گی ؟ افسو س کہ ان لوگوں نے خدا تعالیٰ کی ذات بابرکات اور صفات کو بٹہ لگایا قرآن مجید کی تو ہین کی آنحضرت ﷺ کی توہین کی ۔تمام راستبازوں کی توہین کی ۔ اب ایسے مذہب کو کون قبول کرے ؟ ایسی باتیں تو وہی بولے گا جس کو خدا تعالیٰ کا خوف نہ ہو ۔ دوسرا شخص ایسی باتوں کو کب مان سکتا ہے ۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دعویٰ
بار بار ہم نے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے نبی اور رسول ہونے کی دلیل کیا ہے ؟
اول تو ہم ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ ہمارا دعویٰ صرف نبی اور رسول ہونے کا نہیں ہے اور نہ ہم کسی شریعت لانے کے مدعی ہیں بلکہ ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ میں ایک پہلو سے اُمتی ہوں اور ایک پہلو سے نبی اور وہ نبوت براہ راست نہیں بلکہ امتی ہونے کا کامل برکات نے اور آنحضرت ﷺ کے فیوض تامہ نے مجھے یہ درجہ نبوت بخشا ہے اور در حقیقت وہ نبوت آنحضرت ﷺ کی نبوت ہے جو میرے آئینہ صافیہ میں جلوہ نما ہوئی ہے اور پھر یہ بھی یاد رہے کہ میر ے پاس بھی اپنی اس قسم کی نبوت کے وہی دلائل میں جو سب انبیاء کے پا س ہوتے چلے آئے ہیں ۔بعض انبیاء کے پاس تو صرف ایک دلیل تھی ۔ کہاں لکھا ہے کہ ان کے پاس پچاس یا ساٹھ نشان تھے بلکہ اکثر انبیاء کے لئے نویا اس سے بھی کم نشان ہوا کرتے تھے لیکن ہن نے تو نہایت اختصار کے ساتھ لکھتے ہوئے ایک سو ستاسی نشان حقیقہ الوحی میں لکھ دئیے ہیں اور پھر خدا تعالیٰ ہمارے ساتھ ابھی بڑے بڑے نشانوں کا وعدہ کرتا ہے کم از کم یہ لوگ کچھ مدت کے لئے کف لسان اخیتار کرتے اور ہمارے انجام کو دیکھتے مگر افسو کہ بغیر کسی یقینی علم اور پختہ دلیل کے ہماری تکفیر اور تکذیب پر آمادہ ہو گئے حالانکہ خدا تعالیٰ فرما تا ہے ۔ َا تقفُ مَا لیَسَ لَکَ بہِ علمٌ ( بنی اسرائیل ۳۷)