یہ سب باتیں قیامت پر اُٹھا چھوڑی تھیں مگر یہ جو پیشگوئی ہے کہ حمل دار عورتوں کے حمل گر جائیں گے تو قیامت کے دن عورتوں کو حمل بھی ہوں گے ؟ یہ بات کچھ بھوپال کے نواب صدیق حسن خاں نے سمجھی ہے لیکن افسوس کہ اب تک کوئی مولوی نہیں سمجھا کہ قیامت کو عورتوں کے حمل کہاں ہوں گے ؟ کئی مسائل ہیں جن کا ظاہر ہونا مسیح کے وقت میں بیان کیا گیا تھا یہاں تک کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص کھڑا ہوگااور کہے گا کہ یہ کون شخص ہے کہ ہمارے مذہب کے خلاف باتیں بناتا ہے جو آج تک نہیں سنیں۔ جیسا کہ میں نے پہلے کہا ہے کہ ان نشانوں میں سے ایک زلزلہ بھی ہے کہ علماء اس کو قیامت کے وقت قرار دیتے ہیں۔ اب دیکھو کہ یہ دونوں زلزلے جو آئے ہیں کیا ایسے کبھی پہلے بھی دیکھے یا سنے تھے؟ جواصل میں قرآن شریف کی اس پیشگوئی کے مطابق آئے ۔۱؎ بلا تاریخ ۔۲؎ حقیقی مصلح اور واعظین میں فرق :۔ آج کل کے ایک مشہور لیڈر قوم کا ذکر تھا کہ وہ کہتا ہے کہ ان دنوں مسلمان وعظ کی مجلس میں نہیں آتے ‘لیکن اگر رنڈیوں کا راگ ناچ ہو تو وہاں خوب جمع ہوجاتے ہیں۔ حضرت نے فرمایا:۔ یہ بات درست ہے ‘لیکن اس کا اصل باعث واعظین کی حالتیں ہے۔ آجکل کے وعظ کرنے والے ہی ایسے ہیں کہ وہ خود پرلے درجہ کے دنیا دار اور بے عمل اور بدکار ہیں ۔ اور ان کی وعظ میں نہ کوئی تاثیر ہے اور نہ کوئی تاثیر ہے اور نہ کوئی لذت ہے اور