قرآن شریف میں آیا ہے والصُّلْحُ خَیْرٌ(النسا: ۱۲۹)اس لیے اگر آپس میں کوئی لڑائی جھگڑا ہو جاے تو صُلح کر لینی چاہیئے کیونکہ اس میں خیراور برکت ہے ۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ غیر مذاہب کے ساتھ بھی یہ بات رکھی جائے بلکہ اُن کے ساتھ سخت مذہبی عداوت رکھنا چاہیئے ۔ جب تک مذہب کی غیرت نہ ہو انسان کا مذہب ٹھیک نہیں ہوتا۔ اب یہ جو ہندوعیسائی ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں نکالتے ہیں تو کیا ہم اُن کے ساتھ صلح رکھ سکتے ہیں بلکہ ان کی محفلوں میں بیٹھنا اور ان کے ساتھ دوستی کرنا اور ان کے گھروں میں جانا تو معصیت میں داخل ہے۔
جھگڑوں کی بنیاد بدظنی ہوتی ہے:۔ہاں آپس میں جو ایک فرقہ میں ہوں تو لڑائی جھگڑا کی زیادہ تر بنیاد بد ظنی ہوتی ہے ۔ حدیث میں ہے کہ دوزخ میں دو تہائی آدمی بدظنی کی وجہ سے داخل ہوں گے ۔ خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتاہے کہ قیامت کے دن میں لوگوں سے پوچھوں گا کہ اگر تم مجھ پر بدظنی نہ کرتے تو یہ کیوں ہوتا۔ حقیقت میں اگر لوگ خدا تعالیٰ پر بد ظنی نہ کرتے تو یہ کیوں ہوتا۔ حقیقت میں اگر لوگ خدا تعالیٰ پر بدظنی نہ کرتے تو اس کے احکام پر کیوں نہ چلتے ۔ انہوں نے خدا تعالیٰ پر بد ظنی کی اور کفر اختیار کیا۔ اور بعض تو خدا کے وجود تک کے منکر ہوگئے ۔ تمام فسادوں اور لڑائیوں کی وجہ یہی بد ظنی ہے۔
پیشگوئیوں کے مطابق زلزلوں کا وقوع:۔
زلزلہ کی نسبت باتوں میں فرمایاکہ :۔
قرآن شریف میں زلزلہ آنے کی خبر دی گئی ہے کہ مسیح کے وقت ایسے زلزلے آئیں گے کہ شدت میں نہایت ہی سخت ہوں گے ۔ اب تک ان مولویوں نے