سو ظن کی نسبت نیک ظن کی طرف زیادہ جانا چاہئیے۶؎ قرآن مجید میں وان مّن اُمَّۃِِ اِلَّا خَلَا فیھَا نَذیرٌ (فاطر:۶۵) لکھا ہے ۔اس لئے ہو سکتا ہے کہ وہ بھی ایک رسول ہوں ۔ سوال نمبر ۲:۔ براہین احمدیہ میں آپ نے کلام الہٰی کی ایک نشانی یہ بھی لکھی ہے کہ وہ ہر ایک پہلو میں دوسری کلاموں سے افضل ہوتا ہے ۔ توریت انجیل بھی تو خدا تعالیٰ کا کلام ہیں کیا ان میں بھی یہ وصف پایا جاتا ہے ؟ حضرت اقدس نے فرمایا کہ :َ ۔ ان کتابوں کی نسبت قرآن مجید میں یُحرِ فوُن الکلمَ عَن مَّوَاضِعَہِ ( المائدۃ:۱۴) لکھا ہے وہ لوگ شرح کے طور پر اپنی طرف سے بھی کچھ ملا دیا کرتے تھے ۔اس لئے جو کتابیں محرف مبدل ہو چکی ہیں ان میں یہ نشانی کب مل سکتی ہے ؟ اس پر حضرت حکیم الامت نے عرض کی کہ حضور توریت میں لکھا ہے ’’ پھر موسیٰ خدا کا بندہ مر گیا اور موسیٰ جیسا نہ کوئی پیدا ہو ا نہ ہوگا اور اس کی قبر بھی آج تک کوئی نہیں جانتا ‘‘ تو یہ کلام حضرت موسیٰ ؑ کی ہو ہی کس طرح سکتی ہے اور انجیل کی نسبت تو عیسائی خود قائل ہیں کہ وہ اصلی جو عیسیٰ کی انجیل تھی نہیں ملتی ۔یہ سب تراجم در ترجم اور ترجمے مترجم کے اپنے خیالات کے مطابق ہوا کرتے ہیں ۔ اور ان میں بہت سا حصہ اس قسم کا پایا جاتا ہے جو دوسروں کا بیان ہے جیسے صلیب کا واقعہ وغیرہ ۔ اس پر حضرت مسیح موعو د علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ :۔ یہ ٹھیک بات ہے ۔اگر تمام دنیا میں تلاش کریں تو قرآن مجید کی طرح خالص اور محفوظ کلام الہٰی کبھی نہیں مل سکتا بالکل محفوظ اور دوسروں کی ست برد سے پاک کلام تو صر قرآن مجید ہی ہے ۔ وہ باتیں بڑی یاد رکھنے والی ہیں ایک تو قرآن مجید کی حفاظت کی نسبت کی روئے زمین پر ایک بھی ایسی کتاب نہیں جس کی حفاظت کا وعدہ خود اللہ کریم نے کیا ہوا اور جس میں انَّا نَحنُ نَزَّلن۔ا الذّکرَ وَانَّا لَہٗ لَحَافِظونَ ( الحجر:۱۰ ) دوسرا آنحضرت ﷺ کی اخلاقی حالتوں کی نسبت کیونکہ ہمارے نبی کریم ﷺ کو ہر ایک طرح کے اخلاق ظاہر کرنے کا موقعہ ملا ۔ حضرت موسیٰ ؑ کو دیکھو کہ وہ راستہ