میں فوت ہو گئے تھے اور حضرت عیسی ؑ تو ہمیشہ مغلوب ہی رہے معلوم نہیں اگر غالب ہوتے تو کیا کرتے ۔مگر ہمارے نبی کریم ﷺ نے ہر طرح سے اقتدار اور اختیار حاصل کر کے اپنے جانی دشمنوں اور خون کے پیاسوں کو اپنے سامنے بلا کر کہہ دیا ۔
لَا تَثرِیبُ عَلَیکُم الیَومَ ( یوسف :۹۳)
اور پھر یہ بھی دیکھو کہ آنحضرت ﷺ اس وقت مبعوث ہوئے تھے جب فسق وفجور شرک اور بت پرستی اپنے انتہا کو پہنچ چکی تھی اور ظھَرَ الفَسَادُ فی البِّروَ البَحرِ ( الروم : ۴۲) والا معاملہ ہو رہا تھا ۔ اور گئے اس وقت تھے جب ورَایت النَاسُ یَد خُلُون فی دینِ اللّٰہِ آفوَاجاً ( النَّصر :۳)َ
والا نظار ہ اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ لیا تھا ۔ اور یہ ایک ایسی بات ہے جس کی نظیر تمام دنیا میں نہیں پائی جاتی اور یہی تو کاملیت ہے کہ جس مقصود کے لئے تھے اس کو پورا کر کے دکھایا ۔حضرت عیسی علیہ السلام تو صلیب کا منہ دیکھتے پھرے اور یہودیوں سے رہائی نہ پا سکے ۔مگر ہمارے نبی کریم ﷺ نے غالب ہو کر وہ اخلاق دکھائے جن کی نظیر نہیں ملتی ۔
سوال نمبر ۳:۔ عیسی علیہ السلام کی نسبت تو قرآن شریف میں کلمۃ اور روح ٌمّنہُ لکھا ہے ۔
حضرت اقدس نے فرمایا :۔
ہم بھی تو حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدا ئش کو مس شیطان سے پاک سمجھتے اور دوسرے نبیوں کی ارواح کی طرح اس کی روح کو بھی روح ٌمّنہُ مانتے ہیں اور یومنُ باللّٰہ ِ وَکَلمَاتہِ ( الاعراف :۱۵۹) پر یقین رکھتے ہیں ۔ مگر اس سے حضرت عیسی علیہ السلام کی دوسرے انبیاء پر کوئی فضیلت تو ثابت نہیں ہو سکتی۔آپ ہی بتائیں کہ ہر ایک شخص روح منہ ُ ہوتا ہے یا کسی اور طرف سے ؟ سب ارواح خدا تعالیٰ کی مخلوق اور اسی کی طرف سے ہوتی ہیں نہ کہ کسی اور طرف سے۔
ٹائپ کرنے والا