خدا کی طرف قدم اُٹھانے اور حقیقی طور پراھدِنَا الصّرَاطَ المُستَقِیمَ ( الفاتحہ :۶) والی دعا مانگنے کے یہی معنے تو ہیں کہ خدایا وہ راہ دکھا جس سے تو راضٰ ہو اور جس پر چل کر نبی کامیاب اور با مراد ہوئے ۔ آخر جب نبیوں والی راہ پر چلنے کے لیے دعا کی جاوے گی تو پھر ابتلاؤں اور آزمائشوں کے لئے بھی تیار رہنا چاہئیے اور ثابت قدمی کے واسطے خدا تعالیٰ سے مدد طلب کرتے رہنا چاہئیے ۔جو شخص یہ چاہتا ہے کہ صحت وعافیت بھی رہے ۔ مال ودولت بھی ترقی ہو اور ہر طرح کے عیش وعشرت کے سامان اور مالی وجانی آرام بھی ہوں ۔کوئی ابتلاء بھی نہ آوے اور پھر یہ کہ خدا بھی راضی ہو جاوے وہ ابلہ ہے ۔وہ کبھی کامیابی حاصل نہیں کر سکتا ۔جن لوگوں پر خدا راضی ہوا ہے ان کے سا تھ یہی معاملہ ہوا ہے کہ وہ طرح طرح کے امتحانوں میں ڈالے گئے اور مختلف مصائب اور شدائد سے ان کا سامنا ہوا ۔ حضرت ابراہیمؑ پر دیکھو کیسا نازک ابتلا ء آیا تھا اور پھر اس کے بعد سب نبیوں کے ساتھ یہی معاملہ رہا ۔ یہا ں تک کہ ہمارے نبی کریم ﷺ کا زمانہ آگیا ۔دیکھو ان کو پیدا ہوتے ہی یتیمی کا سامنا ہوا ۔ یتیمی بی تو بری بلا ہے خدا جانے کیا کیا دُکھ اُٹھائے اور پھر دعویٰ کرتے ہیں مصیبتوں کا ایک پہاڑ ٹوٹ پڑا تھا ۔ یاد رکھو ۔ انبیاء کا دوسرا نام اہل بلا ء واہل ابتلاء بھی ہے ۔ ابتلاؤں سے کوئی نبی خالی نہیں رہا ۔ ایک روایت میں کہ کہ آنحضرت ﷺ کے گیا رہ بیٹے فوت ہوئے تھے اور پھر انبیاء کو تو رہنے دو ۔ امام حسین ؓ کو دیکھو کہ ان پر کیسی کیسی تکلیفیں آئیں ۔ آخر ی وقت جو ان کو ابتلاء آیا تھا کتنا خوفناک ہے ۔ لکھا کہ کہ اُس وقت اُن کی عمر ستاون برس کی تھی ۔ اور کچھ آدمی اُن کے ساتھ تھے جب سولہ یا سترہ آدمی ان کے مارے گئے اور طرح کی گھبراہٹ اور لا چاری کا سامنا ہو ا تو پھر ان پر پانی کا پینا بند کر دیا گیا ۔ اور ایسا اندھیرمچایا گیا عورتوں اور بچوں پر بھی حملے کئے گئے اور لو گ بول اُٹھے کہ اس وقت عربوں کی حمیت اور غیرت ذرا بھی باقی نہیں رہی ۔ اب دیکھو کہ عورتوں اور بچوں تک ابھی اُن کے قتل کئے گئے اور یہ سب کچھ درجہ دینے کے لئے تھا ۔جاہل تو کہیں گے کہ ہو گنگار اور بد اعمال تھے اس لئے ان پر یہ تکلیف آئی مگر ان کو یاد رکھنا چاہئیے کہ آرام سے کوئی درجہ نہیں ملا کرتا جو لو گ ایک ہی پہلو پر زور دتیے چلے جاتے ہیں اور ابتلاؤں اور آزمائشوں میں صبر کرنا نہیں چاہتے ۔اندیشہ ہے کہ وہ دین ہی چھوڑ دیں جیسے کہ شیعہ لوگ ہیں کہ اس حقیقت کو دیکھتے نہیں جو امتحانوں اور آزمائشوں کے بعد حاصل ہوا کرتی ہے اور نہ ہی اس کی پروا کرتے ہیں مگر سیاپا لگا تار کئے جاتے ہیں اور چھوڑنے میں نہیں آتے کیا امام حسین ؓ نے انہیں وصیت کی تھی کہ میرے بعد میر سیاپا کرتے رہنا ؟ یاد رکھو جتنے اولیاء اللہ اور مقدس لوگ گذرے ہیں ان کے بڑے بڑے تلخ امتحان ہوئے ہیں اور جو پہلوں کا حال ہے وہ آنے والوں کے لئے ایک سبق ہے ۔ یہ تو بڑی غلطی ہے کہ ایک طرف تو انسان چاہے کہ ہر طرح کو آسودگی اور آرام ہو اور خوشنودی کے سب سامان مہیا ہوں اور دوسری طرف مقرب اللہ بھی بن جاوے ۔یہ تو ایسا ہی مشکل ہے جیسے اُونٹ کا سوئی کے ناکے