حضرت اقدس نے فرمایا :َ ۔
موٹی باہے ہے ۔ قرآن شریف میں لکھا ہے اُدعوہُ مُخلصینَ لَہُ الدِّینَ ( الاعراف۔۳۰) اخلاص سے خداتعالیٰ کو یا د کرنا چاہئیے اور اس کے احسانوں کا بہت مطالعہ کرنا چاہییے ۔چاہئیے کہ اخلاص ہو ۔ احسان ہو اور اس کی طرف ایسا رجوع ہو کہ بس وہی ایک رب اور حقیقی کار ساز ہے ۔
عبادت کے اصول کا خلاصہ اصل میں یہی ہے کہ اپنے آپ کو اس طرح سے کھڑا کر ے کہ گویا خدا کو دیکھ رہا ہے اور پایہ کہ خدا اُسے دیکھ رہا ہے ہر قسم کی طونی اور ہر طرح کے شرک سے پا ہو جاوے اور اسی طرح عظمت اور اسی کی ربوبیت کا خیال رکھے ۔اوعیہ ما ثورہ اور دوسری دعائیں خدا تعالیٰ سے بہت مانگے اور بہت توبہ استغفار کرے اور بار بار اپنی کمزوری کا اظہار کرے تا کہ تزکیہ نفس ہو جاوے اور خدا تعالیٰ سے سچا تعلق ہو جاوے اور اسی کی محبت میں محو ہو جاوے اور یہی ساری نماز کا خلاصہ ہے اور یہ سارا سورہ فاتحہ میں ہی آجاتا ہے ۔ دیکھو ایَاک نَعَبُدُ وَاِیَّا کَ نَستَعینُ ( الفاتحۃ:۵) میں اپنی کمزوریوں کا اظہار کیا گیا ہے۔اور امداد کے لئے خد ا تعالیٰ سے ہی درخواست کی گئی ہے اور خداتعالیٰ سے مدد اور نصرت طلب کی گئی ہے اور پھر اس کے بعد نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ سے اس دنیا پر ظاہر ہوئے ہیں اور جو انہیں کی اتباع اور انہیں کے طریقہ پر چلنے سے حاصل ہو سکتے ہیں ۔اور پھر خد ا تعالیٰ سے دعا مانگی گئی ہے کہ ان لوگوں کی راہوں سے بچا جنہوں نے تیرے رسولوں اور نبیوں کا انکار کیا اور شوخی اور شرارت سے کام لیا اور اسی جہان میں ہی ان پر غضب ناز ل ہوا یا جنہوں نے دنیا کو ہی اپنا مقصود سمجھ لیا اور خد ا تعالیٰ سے کامل محبت ہو اور معصیبت سے جو بہت بری بلا ہے اور نامہ اعمال کو سیاہ کرتی ہے طبعی نفرت ہو اور تزکیہ نفس اور روح القدس کی تائید ہو ۔ دنیا کی سب چیزوں جاہ وجلال مال ودولت عزت وعظمت سے خدا مقدم ہو اور وہی سب سے عزیز اور پیار ا ہو اور اس کے سوائے جو شخص دوسرے قصے کہانیوں کے پیچھے لگا ہوا ہے جن کا کتاب اللہ میں ذکر تک نہیں وہ گرا ہوا ہے محض جھوٹا ہے ۔نماز اصل میں ایک دعا ہے جو سکھائے ہوئے طریقہ سے مانگی جاتی ہے ۔یعنی کبھی کھڑے ہونا پڑتا ہے ۔کبھی جھکنا اور کبھی سجدہ کرنا پڑتا ہے اور جو اصلیت کو نہیں سمجھتا وہ پوست پر ہاتھ مارتا ہے ۔
مصائب وشدائد ضروری ہیں
فرمایا :۔
مصائب اور شدائد کا آنا بہت ضروری ہے ۔کوئی بنی نہیں گذرا جس کا امتحان نہیں لیا گیا ۔جب کسی کا کوئی عزیز مر جاتا ہے تو اس کے لئے یہ بڑا نازک وقت ہوتا ہے ۔ مگر یاد رکھو کہ ایک پہلو پر جانے والے لوگ مشرک ہوتے ہیں ۔آخر