ان کو کتے سے سبق سیکھنا چاہئیے۔ لکھا ہے کہ ایک یہودی مشرف با سلام ہوا ۔ کچھ دن بعد جو مصیبت کا سامنا ہوا ۔ اور وہ بھوکا مرنے لگا اور فاقے پر فاقہ آنے لگا تو کسی یہودی کے مکان پر بھیک مانگنے کے لئے گیا ۔ یہودی نے اس نو مسلم کو چار روٹیاں دیں ۔ جب وہ روٹیاں لے کر جا رہا تھا تو ایک کتا بھی اس کے پیچھے ہو لیا ۔ اس شخص نے یہ خیال کر کے کہ شاید ان روٹیوں میں سے کتے کا بھی حصہ ہے ایک روٹی کتے کے آگے پھینگ دی اور آگے چل دیا ۔ کتا اس روتی کو جلدی جلدی کھا کر پھر پیچھے پیچھے ہو لیا تب اس نے خیا ل کیا کہ شاید ان روٹیوں میں نصف حصہ کتے کا ہو ۔ تب اُس نے ایک اور روٹی کتے کے آگے پھینک دی مگر کتا اس کی بھی کھا کر پیچھے چل دیا ۔ پھر اس ن ے جب معلوم کیا کہ کتا پیچھا نہیں چھوڑتا تو اسے خیال گذرا کہ شاید تین حصے اس کے ہوں اور ایک حصہ میرا ہو اس لئے اس نیا یک روٹی اور ڈال دی مگر کتا وہ روٹی کھا کر بھی واپس نہ گیا ۔ تب اُسے کتے پر غصہ آیا اور کہا تو تو بڑا بدذات ہے ۔ مانگ کر میں چار روٹیاں لایا تھا مگر اُن میں سے تین کھا کر بھی تو پیچھا نہیں چھوڑتا ۔خدا تعالیٰ نے اس وقت کتے کو بولنے کے لئے زبان دے دی تب کتے نے جواب دیا کہ میں بد ذات نہیں ہوں ۔میں خواہ کتنے فاقے اُٹھاوں مگر مالک کے سوائے دوسرے گھر پر نہیں جاتا ۔بد ذات تو تو ہے جو دو تین فاقے اُٹھا کر ہی کافر کے گھر مانگنے کے لیے آگیا ۔تب وہ مسلمان یہ جوب سنکر اپنی حالت پر بہت پشیمان ہوا۔ ایسے ہی گوردسپور میں ایک بلی تھی خواہ کچھ ہی اس کے پاس پڑا رہے مگر وہ بغیر اجاز ت کچھ نہ کھاتی تھی ایک دفعہ بعض دوستوں نے اس بلی کے مالک کو کہا کہ ہم بھی یہ تجربہ کرنا چاہتے ہیں ۔چنانچہ انہوں نے حلوہ دودھ چھیچھڑے وغیرہ بلی کے پاس رکھ کر بہار سے قفل لگا دیا ۔تین دن بعد جو دیکھا تو بلی مری پڑی تھی اور وہ کھانا اسی طرح صحیح سالم موجود تھا ۔اگر ارذل مخلوقات کے صفات حسنہ بھی انسان میں نہ پائے جائیں تو پھر وہ کس خوبی کے لائق ہے ۔ ۱؎ ۱۷ اکتوبر ۱۹۰۷؁ء ( بوقت سیر ) عبادت کے اُصول کا خلاصہ ایک شخص نے سوال کیا کہ نماز میں کھڑے ہو کر اللہ جل شانہ کا کس طرح کا نقشہ پیش نظر ہونا چاہیے ؟