خدا تعالیٰ کے ساتھ کسی کی ملونی نہ رہے اور کس قسم کی دور ہی یا جدائی نہ رہے ۔ صدق وفا اور استقالا ل کی ضرورت یہ تھوڑی سے بات نہیں یہی وہ مشکل گھاٹی ہے جو بڑے بڑے مصائب اور امتحانوں کے بعد طے ہوا کرتی ہے یہ نماز جو تم لوگ پڑھتے ہو ۔ صحابہ ؓ بھی یہی نماز پڑھا کرتے تھے اور اسی نماز سے انہوں نے بڑے بڑے روحانی فائدے اور بڑے بڑے مدارج حاصل کئے تھے فرق صرف حضور اور خلوص کا ہی ہے ۔اگر تم میں بھی وہی اخلاص صدق وفا اور استقلال ہو تو اسی نماز سے اب بھی وہی مدارج حا صل کر سکتے ہو جو تم سے پہلوں نے حاصل کئے تھے ۔ چاہئیے کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں دُکھ اُٹھانے کے لئے ہر وقت تیا ر ہو ۔ یاد رکھو جب اخلاص اور صدق سے کو شش نہیں کر و گے کچھ نہیں بنے گا ۔بہت آدمی ایسے بھی ہوتے ہیں کہ یہاں سے تو بیعت کر جاتے ہیں ۔ مگر گھر میں جا کر جب تھوڑی سی بھی تکلیف آئی اور کسی نے دھمکا یا تو جھٹ مرتد ہوگئے ۔ایسے لوگ ایمان فروش ہوتے ہیں ۔ صحابہ ؓ کو دیکھو کہ انہوں نے دین کی خاطر اپنے سر کٹوا دئیے تھے اور جان ومال سب خد ا تعالیٰ کی راہ میں قربان کرنے کے لئے تیار رہتے تھے ۔کسی دشمن کی دشمنی کی انہیں پروا تک بھی نہ تھی وہ تو خدا تعالیٰ کی راہ میں سب طرح کی تکالیف اُٹھانے اور ہر طرح کے دُکھ برداشت کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتے تھے اور انہوں نے اپنے دلوں میں یہی فیصلہ کیا ہوا تھا ۔ مگر یہ ہیں جو ذرا بھی نمبر دار یا کسی اور شخص نے دھمکا یا تو دین ہی چھوڑ دیا ۔ ایسے لوگوں کی عبادتیں بھی محض پوست ہی پوست ہوتی ہیں ۔ایسوں کی نمازیں بھی خدا تک نہیں پہنچتیں بلکہ اسی وقت ان کے منہ پا ماری جاتی ہیں اور اُن کے لیے لعنت کا موجب ہوتی ہیں ۔ خدا تعالی فرماتا ہے ۔ فوَیلٌ لِّلمُصَلّینَ ھُم مَن صَلَاتھمِ ماَھُونَ ( الماعون: ۵۔۶ ) وہ لو گ جو نمازوں کی حقیقت سے ہی بے خبر ہوتے ہیں ان کی نمازیں نیری ٹکریں ہوتی ہیں ۔ ایسے لوگ ایک سجدہ اگر خد اتعالیٰ کو کرتے ہیں تو دوسرا دنیا کو کرتے ہیں جب تک انسان خد ا کے کئے تکالیف اور مصائب کو برداشت نہیں کرتا ۔تب تک مقبول حضرت احدیت نہیں ہوتا ۔دیکھو دنیا میں بھی اس کا نمونہ پایا جاتا ہے ۔ اگر اپنے غلام اپنے آقا کا ہر ایک تکلیف اور مصیبت میں اور ہر ایک خطر ناک میدان میں ساتھ دیتا رہے تو وہ غلام غلام نہیں رہتا بلکہ دوست بن جاتا ہے ۔یہی خدا تعالیٰ کا حال ہے اگر انسان اس کا دامن نہ چھوڑے اور اسی کے آستانہ پر گرارہے اور استقلال کے ساتھ وفاداری کرتا رہے تو پھر خد ا بھی ایسے کا ساتھ نہیں چھوڑتا اور اس کے ساتھ دوست ولا معاملہ کرتا ہے ۔ وفا داری کے مادہ تو کتے میں بھی پایا جاتا ہے ۔خواہ وہ بھوکا رہے ۔ بیمار ہو جائے کمزور ہو جائے خواہ کچھ ہی ہو مگر اپنے مالک کے گھر کو نہیں چھوڑتا ۔ اور وہ لوگ جو ذرا سی تکلیف پر دین سے ہی روگرداں ہو جاتے ہیں