ہر زمانہ کی آمائشیں الگ الگ ہوتی ہیں
ہر ایک زمانہ میں علیحدہ علیحدہ امتحان اور آمازمائشیں ہوا کرتی ہیں ۔صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنھُم نے تو خد ا تعالیٰ کی راہ میں جانیں دی تھیں اور اپنے سر کٹوائے تھے اور دوسرے نبیوں کے زمانہ میں کسی اور قسم کے ہی دکھ اور مصائب تھے ۔غرض جب تک انسان ابتلاؤں اور آمازئشوں یں پورا نہیں اترتا تب تک ترقی نہیں کرتا اور مقبول حضرت احدیٹ نہیں ہوتا ۔بغیر تکلیفوں اور طرح طرح کے مصائب کے تو کچھ بنتا ہی نہیں ۔
اللہ تعالیٰ پر بدظنی مت کرو
یار رکھو اللہ تعالیٰ رحیم کریم ہے ۔ اس پر بد ظنی نہیں کرنی چاہئیے ۔جو اس کی سنت کو نگاہ میں رکھے گا اور اس کے لئے رکھ اور تکلیف کو برداشت کرنے کے لئے تیار ہو جاوے گا وہ ضرور کامیاب ہو گا ۔ اگر اس کے بتائے ہوئے راستہ پر نہیں چلے گا اور بخل سے کام لے گا تو رہ جادوے گا ۔ دیکھو فوجوں میں جو لوگ بھرتی ہوتے ہیں اور دنیا کی خا طر لڑنے مرنے اور جان دینے کے لئے نوکر ہوتے ہیں وہ کوئی ہزاروں روپیہ تو تنخواہ نہیں پاتے ۔یہی د س بارہ روپیہ کی خا طر جان دینا قبول کر لیتے ہیں مگر کتنے افسوس کی بات ہے کہ خدا تعالیٰ کی خاطر اور دائمی بہشت اور دائمی خوشنودی کے لئے کوئی فکر نہیں کرتے ۔
دائمی سکھ کے لئے کو شش کرنی چاہئیے
جب دنیا کے لئے ایسے کام کر لتیے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ حقیقی آرام اور ہمیشہ کے سکھ کے لئے اتنی کو شش نہیں کی جاتی ۔اصل میں ایسے لوگ خدا تعالیٰ کی اور خدا تعالیٰ کے انعام واکرام کی قدر نہیں کرتے اگر اس کی قدر کرتے توجان کیا چیز تھی جو قربان کرنے کے لئے تیار نہ ہو جاتے ۔ اعلی زندگی اور حقیقی سکھ تو ہے ہی ہو جو خدا تعالیٰ کی راہ میں مرنے سے حاصل ہو تا ہے ۔ حقیقی زندگی تو اپنے آپ پر ایک موت وارد کر لینے سے ہی ملا کرتی ہے ایسے لو جو جنتروں اور منتروں اور ٹونوں اور ٹوٹکوں کی تلا ش میں پھرتے رہتے ہیں دین کے لئے کو شش کرنا چاہتے ہی نہیں بلکہ چاہتے ہیں کہ بڑے آرام سے اور گھر بیٹھے بٹھائے قلب کی صفائی حا صل ہو جاوے اصل میں چھوٹے قصوں او ر کہانیوں نے ان لوگوں کو بڑا نقصان پہنچایا ہے اور ایسی باتوں سے انہوں نے سمجھ رکھا ہے کہ دین ایک ایسی چیز ہے جو جنتروں منتروں اور تعویذوں سے حاصل ہو سکتا ہے ۔ اسی واسطے ان لوگوں نے بعض بعض ریاضیتں بھی مقرر کی ہوئی ہیں جن پر عمل کرنے سے کہتے ہیں قلب جاری ہوتا ہے اور عجیب بات یہ ہے کہ باوجود قلب جاری ہونے کے عملی حالت اُن کی اور بھی خراب ہو جاتی ہے اور ایسے وظائف میں ایک ذکر ارہ بھی ہے جس کا نتیجہ آخر میں سل ہوا کرتا ہے حلانکہ خدا تعالیٰ نے ایک ہی راہ رکھا ہے ۔جیسے فرمایا :۔قَد آنلَحَ من رَکھَا ( الشمس : ۱۰ )
اور یہ اسی بات کی طرف اشارہ ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کی رضا کے ساتھ راضی ہو جاوے کوئی دوئی نہ رہے ۔