ﷺ نے جواب دیا ۔ توبہ کرو کیا تو نہیں جانتا کہ یہ سب مصیبت ہم خدا تعالیٰ کی خا طر برداشت کر رہے ہیں ۔ ایسی خوشگن جگہ پر آرام کر کے عبادت کرنے کا تو کوئی فائدہ نہیں ۔
ذبح ہونے کے بعد زندگی ملتی ہے
وہ تو بندگی ہی نہیں جو دکھ درد کے ساتھ نہیں ہندوؤں کے گوروں کی طرح کسی تلاب یا عمدہ حوض کے کنارے پر بیٹھ کر باآرام زندگی بسر کرنا اور سرسبز ہری بھری جگہ پر لیٹ کر خدا تعالیٰ کی یاد کرنے سے کچھ نہیں بنتا ۔چاہئیے کہ ابتلاؤں اور امتحانوں میں ثابت قدم رہو اور خدا تعالیٰ کے لئے جان دینے میں بھی فرق نہ رکھو اور اس کی راہ میں قربان ہونے کے لئے ہر وقت تیار رہو ۔ جب انسان اپنے دل میں فیصلہ کر لیتا ہے اور دکھ کے لئے تیار رہتا ہے تب پھر خدا بھی ملتا ہے اور روحانی فائدہ بھی ہوتا ہے ۔یہی سنت اللہ ہے ۔ اور جب سے دنیا پیدا ہوئی اور انبیاء کا سلسلہ شروع ہوا بغیر دکھ اور تکالیف کے برداشت کرنے کے خدا تعالیٰ راضی نہیں ہوا کرتا اور نہ ہی دین حاصل ہو تا ہے ۔
بعض لوگ ہمارے پاس آتے ہیں اور کہہ دتیے ہیں کہ کسی جنتر منتر یا پھونک سے ہی ہمیں اولیاء اللہ بنا دلویں اور ایک زندگی کی روح پھونک دیویں ۔مگر خدا تعالی تو پہلے ذبح کر لیتا ہے اور پھر زندہ کرتا ہے بلکہ ایسے ایسے امتحانوں اور آزمائشوں کے وقت انسان خود بھی معلوم کر لیتا ہے کہ اب میں وہ نہیں ہوں جو پہلے تھا اور اس میں کچھ شک نہیں کہ ایسے امتحانوں میں پورا اُترنے کے بعد خدا تعالیٰ ضرور ملتا ہے ۔ جب تک انسان خدا تعالیٰ کی راہ میں تکالیف اور مصائب برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہو جاتا ۔تب تک ترقی کی امید بھی نہیں ہو سکتی ۔
نماز بھی اضطرابی حالت کو ظاہر کرتی ہے
دیکھو یہ جو نماز پڑھی جاتی ہے اس میں بھی ایک طرح کا اضطراب ہے ۔ کبھی کھڑا ہونا پڑتا ہے کبھی رکوع کرنا پڑتا ہے اور کبھی سجدہ کرنا پڑتا ہے اور پھر طرح طرح کی احتتاطیں کرنیں پڑتی ہیں ۔مطلب یہی ہوتا ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کے لئے دکھ اور مصیبت کو برداشت کرنا سیکھے ورنہ ایک جگہ بیٹھ کر بھی خد ا تعالیٰ کی یاد ہو سکتی تھی پر خد ا تعالیٰ نے ایسا منظور نہیں کیا ۔صلوۃ کا لفظ ہی سوزش پر دلالت کرتا ہے ۔جب تک انسان کے دل میں ایک قسم کا قلق اور اضطراب پیدا نہ وہواور خدا تعالیٰ کے لئے آپنے آرام کو نہ چھوڑے تب تک کچھ بھی نہیں ہم جانتے ہیں کہ بہت سے لوگ فطرتاً اس قسم کے ہوتے ہیں جو ان باتوں میں پورے نہیں اترے سکتے اور پیدائشی طور پر ہی ان میں ایسی کمزوریاں پائی جاتی ہیں جو وہ ان امور میں استقلال نہیں دکھا سکتے مگر تاہم بھی توبہ اور استغفار بہت کرنا چاہئیے کہ کہیں ہم ان میں ہی شامل نہ ہو جاویں جو دین سے بالکل بے پروا ہو تے ہیں اور اپنا مقصود بالذات دنیا کو ہی سمجھتے ہیں ۔