دیندار نہیں بن سکتا ۔ یہ قاعدہ کی بات ہے کہ دکھ کے بعد ہی ہمیشہ راحت ہوا کرتی ہے ۔ یاد رکھو جو شخص خدا تعالیٰ کی راہ میں دکھ اور مصیبت برداشت کرنے کے لئے تیار وہ کاٹا جاوے گا ۔ ترقی ہمیشہ مصائب اور تکالیف کے بعد ہوتی ہے اور ایمانی حالت کا پتہ اسی وقت لگتا ہے ۔جب تکالیف اور مصائب آویں ۔ روحانی فوائد حاصل کرنے کے لئے پہلے آپنے آپ کو دکھ اور تکالیف اُٹھانے کے لئے تیار کر لینا چاہئیے ۔ عشق اول سرکش وخونی بود تا گریزد ہر کہ بیرونی بود بعض لوگ آتے اور کہہ دتیے ہیں کہ ہمیں پھونگ مارو کہ اولیاء اللہ بن جاویں اور ہمارا سینہ صاف ہو جاوے اور روحانی معراج پر پہنچ جاویں اور ہمارے قلب میں پا کیزگی پید ا ہو جاوے ۔ان کو یاد رکھنا چاہئیے کہ سب کچھ دکھوں اور تکلیف کے بعد مل جاتا ہے اور ضرور مل جاتا ہے مومن کو اللہ تعالیٰ منا ئع نہیں کرتا۔جب انسان دنیا کے لئے طرح طرح کی تکالیف برداشت کر لیتا ہے ۔ ایک کسان کو ہی دیکھو کہ پہر رات کے قریب اُٹھتا ہے ہل جوتتا ہے اور کتنی تکالیف اُٹھاتا اور محنت کرتا ہے ۔ نہ رات کو آرام کرتا ہے اور نہ دن کو۔بلکہ جب بہت سی مشکل کے بعد فضل پک بھی جاتا ہے اس وقت بھی اس کے حاصل کرنے کے لئے کیا کیا مصائب اُٹھاتا ہے اور اس دنیا کے لئے جو آج ہے اور کل فنا ہو جائیگی مارا مارا پھرتا ہے اور مصیبت پر مصیبت اور دکھ پر دکھ اُٹھاتا ہے تو کیا پھر دین ہی ایسی چیز ہے جو محض پھونک مارنے سے حا صل ہو جاتا ہے اور اس میں کسی امتحان آزمائش اور محنت کی ضرورت نہیں ؟ دین کے لئے محنت کی ضرورت دین کے لئے ایسی توقع کرنا اور اس کا ایک حلوہ بے دود کی طرح سمجھنا کسی طرح بھی ٹھیک نہیں صحابہ رضی اللہ عنھم کے زمانہ پر غور کرو کہ انہوں نے دین کی خاطر کیسے کیسے مصائب اُٹھائے اور کن کن دکھوں میں وہ مبتلا ہوء نہ دن کو آرام کیا اور نہ رات کو ۔ خدا تعالیٰ کی راہ میں ہر ایک مصیبت کو قبول کیا اور جان تک قربان کر دی اور دین کی خاطر سر کٹوا دئیے۔ مجھے اس وقت یا د آگیا ہے کہ ہے کہ ایک دفعہ آنحضر ت ﷺ ایک دشمن کے مقابلہ پر ایسے موقعہ پر نکلے کہ دوپہر کا وقت اور گرمی کا موسم تھا ۔ اور تپش تھی ۔ لو چلتی اور تیز دھوپ پڑتی تھی چلتے چلتے ایک نہایت ہی خوشگوار اور سر سبز شاداب چشمے پر پہنچے ۔ایک صحابی ؓ نے ایسی خوشگوار سر سبز اور ہری بھری جگہ دیکھ کر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں عرض کی کہ مجھے اجازت دی جاوے کہ اس جگہ پر عبادت کروں ۔آنحضرت