ثابت کرنا ان کے نزدیک گالی دینا ہے تو اس طرح سے تو ہم نے نکالی ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ دوسرے نبیوں کی طرح وفات پا گئے ۔۲؎
۳اکتوبر ۱۹۰۷ء
( قبل نماز ظہر )
ترقی مدارج کے لئے آزمائش ضروری ہے
ایک شخص نے عرض کی کہ میں روحی فائدہ کے واسطے یہاں آیا ہوں ۔
مجھے کچھ بتا جاوے ۔فرمایا :۔
روحانی فائدہ بھی انہیں کو پہنچتا ہے جو آپ کو شش کرتے ہیں ۔دیکھو ہمارے نبی کریم ﷺ سب سے اعلیٰ اور افضل تھے مگر انہوں نے بھی دین کی خا طر کیسے کیسے مصائب اُٹھائے ۔دین بھی تو مرنے کے بعد حاصل ہوتا ہے ۔ خد ا تعالیٰ کا فضل بھی ہو اور محنت بھی ہو تو انسان منزل مقصود تک پہنچ جاتا ہے ۔ دنیا کے کاموں کے لئے انسان کیسے کیسے دکھ اُٹھا تا اور کیسی کیسی تکلیفیں برداشت کرتا ہے اور تب جا کر کچھ حاصل ہوتا ہے تو کیا دیں کے لئے کچھ بھی محنت اور سعی نہیں کرنی چاہئے ؟ اگر تھوڑا سا مقدمہ آجا وے تو پھر انسان اس کے واسطے کہاں کہاں سے سفارشیں لاتا ہے اور کسقدر خرچ کرتا ہے اور کتنی کو شش کرتا ہے اور اگر باوجود اتنی کوشش کے وہ مقدمہ خارج ہو جاتا ہے تو پھر اپیل کرتا ہے بلکہ اگر وہ بھی خا رج ہو جاتی ہے تو پھر کیسی کیسی مصبتیں برداشت کر کے اپیل کرتا اور کیا کیا کر گذرتا ہے تو کیا دین کو ہی ایسا سمجھنا چاہئیے کہ وہ محض پھوُنک مارنے اور کسی ورد وظیفہ کے کرنے سے حا صل ہو جائے گا ۔
اور یونہی آرام طلبی سے گذارنے پر اس میں کامیابی حاصل ہو جائے گی ۔ ؟ خدا تعالیٰ تو فرماتا ہے ۔ اَحسبَ النَّا س ُ اَن یُترَکوُآآن یقُولُو اآمَنَّا وَھُم لَا یُفتَنُونَ ( العنکوت : ۳) کیا یہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ صرف زبانی قیل وقال پر ہی ان کو چھوڑدیا جائے گا اور صرف اتنا کہنے سے ہی کہ ہم ایمان لے آئے دین دار سمجھے جائیں گے اور ان کا امتحان نہ ہوگا ؟ بلکہ امتحان اور آزمائش کا ہونا نہایت ضروری ہے سب انبیاء کا اس پر اتفاق ہے کہ ترقی مدارج کے لئے آزمائش ضروری ہے اور جب تک کوئی شخص آزمائش اور امتحان کی منازل طے نہیں کرتا