السلام علیکم ۔ الہام خدا تعالیٰ کا فعل ہے۔ بندہ کی الہام میں فضیلت نہیں۔ بلکہ اعمال صالحہ میں فضیلت ہے۔ اور اس میں کہ خدا تعالیٰ اس سے راضی ہو جائے ۔ سو نیک کاموں میں کوشش چاہیئے تاکہ موجبِ نجات ہو ۔ والسلام ۔ مرزا غلام احمد مسیح موعود کیلئے نمازیں جمع کی جائیں گی۔ چونکہ کچھ مدت سے حضرت کی طبیعت دن کے دوسرے حصہ میں اکثر خراب ہو جاتی ہے ۔ اس لئے نماز مغرب اور عشاء گھر میں باجماعت پڑھ لیتے ہیں۔ باہر تشریف نہیں لا سکتے۔ ایک دن نماز مغرب کے بعد چند عورتوں کو مخاطب کرکے فرمایا جو سننے کے قابل ہے۔ (ایڈیٹر تشحیذ) فرمایا: کوئی یہ نہ دل میں گمان کر لے کہ یہ روز گھر میں جمع کرکے نماز پڑھا دیتے ہیں اور باہر نہیں جاتے ۔ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی کی کہ آنے والا شخص نماز جمع کیا کرے گا۔ سو چھ مہینے تک تو باہر جمع کرواتارہاہوں ۔ اب میں نے کہا کہ عورتوں میں بھی اس پیشگوئی کو پورا کر دینا چاہیئے۔ چونکہ بغیر ضرورت کے نماز جمع کرنا ناجائز ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے مجھ کو بیمار کر دیا اور اس طرح سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کو پورا کر دیا۔ ہر ایک مسلمان کا فرض ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کو پورا کرے ۔ کیونکہ وہ پورا نہ ہو تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نعوذ باللہ جھوٹے ٹھہرتے ہیں۔ اس لئے ہر ایک کو وہ بات جو اس کے اختیار میں ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کہنے کے موافق پوری کر دینی چاہیئے اور خدا تعالیٰ خود بھی سامان مہیا کر دیتاہے جیسا کہ مجھ کو بیمار کر دیا تاکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کو پورا کر دے ۔ جیسا کہ ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابیؓ سے فرمایا کہ تیرا اس وقت کیا حال ہوگا جبکہ تیرے ہاتھ میں کسریٰ کے سونے کے کڑے پہنائے جائیں گے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب کسریٰ کا ملک فتح ہوا۔ تو حضرت عمرؓ نے اس کو سونے کے کرے جو لوُٹ میں آئے تھے پہنائے ۔ حالانکہ سونے کے کڑے یا کوئی اورچیز سونے کی مردوں کے لئے ایسی ہی حرام ہے جیسا کہ اور حرام چیزیں ۔ لیکن چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے یہ بات نکلی تھی اس لئے پوری کی گئی ۔ اسی طرح ہر ایک دوسرے انسان کو بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کو پورا کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے ۔ دوزردچادروں سے مراد : ۔ فرمایا کہ : دیکھو میری بیماری کی نسبت بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی کی تھی جو اسی طرح و قوع میں آئی۔ آپ نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان پر سے جب اُترے گا تو دو زرد چادریں اس نے پہنی ہوئی ہوں گی تو اسی طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں ایک اوپر کے دھڑکی اور ایک نیچے کے دھڑکی ۔ یعنی مراق اور کثرت بول ۔ ہمارے مخالف مولوی اس کے معنی یہ کرتے ہیں کہ وہ سچ مچ جوگیوں کی طرح دو چادریں اوڑھے ہوئے آسمان نیچے اُتریں گے ۔ لیکن یہ غلط ہے۔ چونکہ معبروں نے ہمیشہ زرد چادر کے معنی بیماری کے ہی لکھے ہیں۔ ہر ایک شخص جو زرد چادر دیکھے یا کوئی اور زرد چیز تو اس کے معنے بیماری کے ہی ہوں گے اور ہر ایک شخص جو ایسا دیکھے آزماسکتاہے کہ اس کے معنی یہی ہیں۔ صلح پسندی کے ساتھ مذہب کی غیر ت ضروری ہے ؛۔ دو عورتوں کے جھگڑے پر فرمایا کہ :