والا سچے کی زندگی میں ہی ہلاک ہوا کرتا ہے ۔ ایسے ہی ہمارے مخالف بھی ہمارے مرنے کے بعد زندہ رہیں گے اور مخالفوں کے وجود کا قیامت تک ہونا ضروری ہے جیسے وَجَاعلُ الَّذینَ اتَّبعُوکَ فَوقَ الَّذینَ کَفَرُوٓا الیٰ یَومَ آلقیَامَۃِ ( آل عمران :۵۶) سے ظاہر ہے ۔
ہم تو ایسی باتیں سن سنکر حیران ہوتے ہیں ۔ دیکھو ہماری باتوں کو کیسے اُلٹ پلٹ کر پیش کیا جاتا ہے اور تحریف کرنے میں وہ کمال حا صل کیا ہے کہ یہودیوں کے بھی کاٹ دئیے ہیں ۔ کیا یہ کسی نبی اولی قطب غوث کے زمانہ میں ہوا کہ اس کے سب اعداء مر گئے ہوں ۔ ؟ بلکہ کافر منا فق باقی رہ ہی گئے تھے ۔ہاں اتنی بات صحیح ہے کہ سچے کے ساتھ جو جھوٹے مباہلہ کرتے ہیں تو وہ سچے کی زندگی میں ہی ہلاک ہو تے ہیں جیسے کہ ہمارے ساتھ مباہلہ کرنیوالوں کا حال ہو رہا ہے۔
جماعت کو خود سو چکر عام سوالوں کو جواب دینا چاہئیے
مجھے تو اپنی جماعت پر افسوس ہوتا ہے کہ کیا ان میں اتنی عقل بھی نہیں کہ ایسے اعتراض کرنے والے سے پوچھیں کہ یہ ہم نے کہا ں لکھا ہے کہ بغیر مباہلہ کرنے کے ہی جھوٹے سچے کی زندگی میں تباہ اور ہلاک ہو جاتے ہیں ۔وہ جگہ تو نکالوجہاں یہ لکھا ہے ہماری جماعت کو چاہئیے کہ عقل میں فہم میں ہر طرح سے ترقی کریں اور ایسی باتوں کا خود سوچ کر جواب دیا کریں اور اپنی ایمانی روشنی سے ا ن باتوں کو حل کیا کریں ۔مگر دنیا داری کے دھند وں میں مت ماری جاتی ہے ۔ اتنا نہیں کر سکتے کہ معترض سے ہماری کتاب کی وہ جگہ ہی پوچھیں جہاں یہ لکھا ہے کہ سچے کی زندگی میں سب جھوٹے مر جاتے ہیں ۔بلکہ جھوٹے تو قیامت تک رہیں گے ۔
مبلغین کے لئے حضرت اقدس کی کتب کے مطالعہ کی اہمیت
فرمایا :۔
اس تحریک سے مجھے یہ بھی یاد آگیا ہے کہ وہ لوگ جو اشاعت اور تبلیغ کے واسطے باہر جاویں ۔وہ ایسے نہ ہوں کہ اُلٹ پلٹ کر ہماری باتوں کو کچھ اور کا اور ہی بناتے رہیں اور بات تو کچھ اور ہو اور سمجھانے کچھ اور الگ جاویں ۔ دوسروں کو تو ہمارے دعویٰ سے آگاہ کریں اور خود ہماری کتابوں کو کبھی پڑھا بھی نہ ہو ۔ اس طرح سے ہی تحریف ہوا کرتی ہے ۔ایسے وقتوں میں صرف زبانی فیصلہ نہیں ہونا چاہئیے بلکہ تحریر پیش کرنی چاہئیے ۔
ہم پر الزام لگائے جاتے ہیں کہ حضرت عیسی ٰ علیہ السلام اور امام حسین ؓ کی توہین کی جاتی ہے حالانکہ ہم ان کو راستباز اور متقی سمجھتے ہیں ۔ اعتراض کرتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی بہت بے عزتی کی جاتی ہے اور ان کو گالی دی جاتی ہے حالانکہ ہم ان کو ایک اولوالعزم نبی اور خدا تعالیٰ کا راستباز بندہ سمجھتے ہیں ۔ ہان اگر عیسیؑ کا مر جانا