اور عقد ہمت نہ ہو تو یہ نمازیں نرمی جنتر منتر ہیں ۔اب وقت ہہے کہ گداز گداز ہو ہو جائیں اور رات دن دعاؤں میں مصروف رہیں ۔میں فکر وں میںہلاک ہو رہا ہوں ۔مگر دیکھتا ہوں کہ جماعت ہنوزیہ رُوح پیدا نہیں ہوئی ۔ میں ان روکھی سوکھی نمازوں کا ہر گز قائل نہیں جو رسم وعادت کے پیرایہ سے پڑھی جاتی ہیں ۔خدا تعالیٰ اس وقت دیکھتا ہے کہ کن لوگوں نے گذشتہ نشانوں کی قدردانی کی اور اپنے اعمال میں تبدیلی پیدا کی ۔ وہ اُن ہی کو آئندہ بھی مستفید ہونے کی توفیق بخشے گا ۔ ۱؎
۲ اکتوبر ۱۹۰۷ء
( بوقت سیر )
جھوٹا مباہلہ کرنیوالا سچے کی زندگی میں ہلاک ہو تا ہے
ہماری جماعت کے ایک شخص نے کسی غیر احمدی کا سوال پیش کیا کہ آپ نے اپنی تصانیف میں لکھا ہے کہ جھوٹا سچے کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاتا ہے
یہ درست نہیں کیونکہ مسلیمہ کذاب آنحضرت ﷺ کے بعد فوت ہوا تھا ۔
حضرت اقدس نے فرمایا :۔
یہ کہاں لکھا ہے کہ جھوٹا سچے کی زندگی میں مر جاتا ہے ۔ ہم نے تو اپنی تصانیف میں ایسا نہیں لکھا ۔لاؤپیش کرو وہ کونسی کتاب ہے جس میں ہم نے ایسا لکھا ہے۔ہم نے تو یہ لکھا ہوا ہے کہ مباہلہ کرنے والوں میں سے جو جھوٹا ہو وہ سچے کی زندگی میں ہلاک ہو جاتاہے ۔مسلیمہ کذاب نے تو مباہلہ کیا ہی نہیں تھا ۔ آنحضرت ﷺ نے اتنا فرمایا تھا کہ اگر تو میرے بعد زندہ بھی رہا تو ہلاک کیا جائے گا سو ویسا ہی ظہور میں آیا ۔مسلیمہ کذاب تھوڑے ہی عرصہ بعد قتل کیا گیا اور پیشگوئی پوری ہوئی ۔
یہ بات کہ سچا جھوٹے ۱؎کی زندگی میں مر جاتا ہے یہ بالکل غلط ہے ۔ کیا آنحضرت ﷺ کے سب اعداء ان کی زندگی میں ہی ہلاک ہو گئے تھے ؟ بلکہ ہزاروں اعداء آپ کی وفات کے بعد زندہ رہے تھے ۔ہاں جھوٹا مباہلہ کرنے