بڑھائی جاوے ۱؎
بلا تا ریخ ۲؎
تزکیہ اخلاق کی ضرورت
بڑے درد دل کے ساتھ سلسلہ کلام شروع کیا کہ :۔
ہماری جماعت کا اعلیٰ فرض ہے کہ وہ اپنے اخلاق کا تزکیہ کریں اور حقوق عباد اور حقوق اللہ کے ادا کرنے کی دقیق سے دقیق رعایت کیا کریں ۔کوئی منصوبہ اور جعل ان کے کسی عضو پر نہ ہو ۔ کوئی کتا اور بلی بھی ان کے احسان سے محروم نہ رہے چہ جائیکہ بنی آدم ۔میں اُن لوگوں کو بہت بُرا جانتا ہوں جو دین کی آڑ میں کسی غیر قوم کی جانی ومالی ایذا ء روا رکھتے ہیں ۔
غرض خلاصہ ساری تقریر کا یہی ہے کہ اب وقت ہے کہ جماعت اپنی حالت میں بین تبدیلی دکھائے ۔
نشانات کی قدر دانی کریں
فرمایا کہ :۔
مجھے پختہ وعدہ دیا گیا ہے کہ بہت سے عظیم الشان نشان تیرے ہاتھ سے ظاہر ہو نگے مگر یہ علم مجھ کو نہیں دیا گیا کہ کون کون لوگ اس سے مستفید ہوں گے ۔
فرمایا کہ :۔
نشانوں کی نا قددردانی دو طرح سے وقوع میں آتی ہے ایک کفر وانکار سے اور ایک اس طرح سے کہ دو روز تک اس کے وقوع کے بعد واہ واہ کی جائے اور پھر اُسے قطعاً فراموش کر ڈالا جائے اور خد ا تعالیٰ کی عظمت وجبروت اس کے وقوع کے بعد نئے سرے دل پر وار نہ کی جائے ۔سو میں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت کا بھی یہی حال ہے کہ نشان الہٰی کی چند اں پروا نہیں کرتے اور غفلت اور تساہل سے وقت گذارتے ہیں اور اکثر انہیں ایسے ہیں کہ سو ز وگدازان کے افعال میں نظر نہیں آتا ۔
فرمایا :۔
اگر دین الہٰی کے اعلاء اور تعظیم اور حرمات الٰہیہ کی ہتک کے انتقام کے لئے روح میں جوش اور قوت