اور مسافر صاحب مقدرت ہوں ان کو چاہئیے کہ روزہ کی بجائے فدیہ دیں ۔ اس جگہ مریض اور دوسرے سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو کبھی اُمید نہیں کہ پھر روزہ رکھنے کا موقعہ مل سکے ۔مثلاً ایک نہایت بوڑھا ضعیف انسان یا ایک کمزور حاملہ عورت جو دیکھتی ہے کہ بعد وضع حمل بہ سبب بچے کو دودھ پلانے کے کے وہ معذور ہو جائے گی ۔ اور سا ل بھر اسی طرح گذر جائے گا ۔ ایسے اشخاص کے واسطے جائز ہو سکتا ہے کہ وہ روزہ نہ رکھیں کیونکہ وہ روزہ رکھ ہی نہیں سکتے اور فدیہ دیں ۔ باقی اور کسی کے واسطے جائز نہیں کہ صرف فدیہ دے کر روزے رکھنے سے معذور سمجھا جا سکے ۔چونکہ اخبار بدر کی مذکورہ بالا عبارت صاف نہ تھی اس واسطے یہ مسئلہ دوبارہ حضرت اقدس کی خدمت میں پیش ہو ا ۔ آ پ نے فرمایا کہ :۔
صرف فدیہ تو شیخ فانی یا اس جیسوں کے واسطے ہو سکتا ہے جو روزہ کی طا قت کبھی بھی نہیں رکھتے ۔ورنہ عوام کے واسطے جو صحت پا کر روزہ رکھنے کے قابل ہو جاتے ہیں ۔صرف فدیہ کا خیال کرنا ابا حت کا دروازہ کھول دینا ہے جس دین میں مجاہدات نہ ہوں وہ دین ہمارے نزدیک کچھ نہیں ۔اس طرح خدا تعالیٰ کے بوجھوں کو سر پر سے ٹالنا سخت گناہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو لوگ تیری راہ میں مجاہد ہ کرتے ہیں ان گوہی ہدایت دی جا وے گی ۔
پانچ مجاہدات
فرمایا :۔
خدا تعالیٰ نے دین اسلام میں پانچ مجاہدات مقرر فرمائے ہیں ۔ (۱ )نماز ۔(۲) روزہ (۳)زکوۃ صدقات (۴) حج ‘اسلامی دشمن کا ذب اور دفع خواہ سیفی ہو خواہ قلمی ۔یہ پانچ مجاہدے قرآن شریف سے ثابت ہیں مسلمانوں کو چاہئیے کہ ان میں کو شش کریں اور ان کی پا بندی کریں ۔ یہ روزے تو سال میں ایک ماہ کے ہیں بعض اہل اللہ تو نوافل کے طور پر اکثر روزے رکھتے رہتے ہیں اور ان میں مجاہد ہ کرتے ہیں ۔ ہاں دائمی روزے رکھنا منع ہیں ۔یعنی ایسا نہیں چاہیئے کہ آدمی ہمیشہ روزے ہی رکھتا رہے بلکہ ایسا کرنا چاہئیے کہ نفلی روزہ کبھی رکھے اور کبھی چھوڑ دے ۔
صدقہ کی جنس خریدنا جائز ہے
ایک شخص نے حضرت کی خدمت میں عرض کی کہ میں مرغیاں رکھتا ہوں اور ان کا دسواں حصہ خدا تعالیٰ کے نام پر دیتا ہوں اور گھر سے روزانہ تھوڑا تھوڑا آٹا صدقہ کے واسطے الگ کیا جاتا ہے کیا یہ جائز ہے کہ وہ چوزے اور وہ آٹا خود ہی رکھ لوں اور اس کی قیمت مدستعلقہ میں بھیج دوں ؟
فرمایا :۔
ایسا کرنا جائز ہے ۔
نوٹ :۔ لیکن اس میں یہ خیال کر لینا چاہئیے کہ اعمال نیت پر موقوف ہیں ۔ اگر کوئی شخص ایسی اشیاء