میں رکھنے کی اس کی ضرورت نہیں ۔ خد تعالیٰ کا صریح حکم یہ ہے کہ وہ بعد میں روزے رکھے ۔بعد کے روزے اس پر ہر حال فرض ہیں ۔ درمیان کے روزے اگر وہ رکھے تو یہ امر ائد ہے اور اس کے دل کی خواہش ہے ۔ اس سے خدا تعالیٰ کا وہ حکم جو بعد میں رکھنے کے متعلق ہے ٹل نہیں سکتا ۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ :َ ۔ جو شخص مریض اور مسافر ہونے کی حالت میں ماہ رمضان میں روزہ رکھتا ہے وہ خدا تعالیٰ کے صریح حکم کی نافرمانی کرتا ہے ۔خدا تعالیٰ نے صاف فرما دیا ہے کہ مریض اور مسافر روزہ نہ رکھے ۔ مرض سے صحت پانے اور سفر کے ختم ہونے کے بعد روزے رکھے ۔ خدا تعالیٰ کے اس حکم پر عمل کرنا چاہئیے ۔کیونکہ نجات فضل سے ہے نہ کہ اپنے اعمال کا زور دکھا کر کوئی نجات حا صل کر سکتا ہے ۔ خدا تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ مرض تھوڑی ہو یا بہت سفر چھوٹا ہو یا لمبا ہو بلکہ حکم عام ہے اور اس پر عمل کرنا چاہئیے مرض اور مسافر اگر روزہ رکھیں گے توا ن پر حکم عدولی کا فتویٰ لازم آئے گا ۔ مسافر اور مریض فدیہ دے سکتے ہیں فرمایا : ۔ اللہ تعالیٰ نے شریعت کی بناء آسانی پر رکھی ہے جو مسافر اور مریض صاحب مقدرت ہو ں ۔ ان کو چاہئیے کہ روزہ کی بجائے فدیہ دے دیں ۔ فدیہ یہ ہے کہ ایک مسکین کو کھانا کھلایا جائے ۔ ۱؎ بلا تا ریخ المفتی ایک غلطی کی اصلاح کونسا مریض صرف فدیہ دے سکتا ہے گذشتہ پرچہ اخبار نمبر ۴۲مورخہ ۱۷ اکتوبر ۱۹۰۷ئ؁ کے صفحہ ۷ کالم اول میں لکھا ہے گیا تھا کہ مریض اور مسافر ایام مرض اور ایام سفر میں روزہ نہ رکھیں بلکہ ان ایام کے عوض یا ماہ رمضان کے بعد دوسرے دنوں میں بصورت صحت اور قیام ان روزوں کو پورا کریں ۔ اسی عبارت کے اخیر میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ جو مریض