بیوہ کے نکاح کا حکم اسی طرح ہے جس طرح کہ باکرہ کے نکا ح کا حکم ہے ۔ چونکہ بعض قومیں بیوہ عورت کا نکاح خلاف عزت خیال کرتے ہیں اور یہ بدرسم بہت پھیلی ہوئی ہے ۔اس واسطے بیو ہ کا نکاح کے واسطے حکم ہوا ہے لیکن اس کے یہ معنے نہیں کہ ہر بیوہ کا نکا ح کیا جائے ۔ نکاح تو اسی کا ہو گا جو نکاح کے لائق ہے ۔ اور جس کے واسطے نکاح ضروری ہے ۔بعض عورتیں بوڑھی ہو کر بیوہ ہو تی ہیں ۔بعض کے متعلق دوسرے حالات ایسے ہوتے ہیں کہ وہ نکاح کے لائق نہیں ہوتیں ۔ مثلاً کسی کو ایسا مرض لاحق ہے کہ وہ قابل نکاح ہی نہیں یا کافی اولاد اور تعلقات کی وجہ سے ایسی حالت میں ہے کہ اس کا دل پسند ہی نہیں کر سکتا کہ وہ اب دوسرا خاوند کرے ۔ ایسی صورتوں میں مجبوری نہیں کہ عورت کو خواہ مخواہ جکڑا کر خاوند کرایا جائے ۔ ہاں اس بد رسم کو مٹا دینا چاہیے کہ بیوہ عورت کو ساری عمر بغیر خاوند کے جبراً رکھا جاتا ہے ۔۲؎ بلا تاریخ متبنی بنانا حرام ہے کسی کا ذکر تھا کہ اس کی اولاد نہ تھی اور اس نے ایک شخص کے بیٹے کو اپنا بیٹا بنا کر اپنی جائیداد کا وارث کر دیا تھا ۔ فرمایا :۔ یہ فعل شرعاً حرام ہے شریعت اسلام کے مطابق دوسرے کے بیٹے کو اپنا بیٹا بنانا قطعاً حرام ہے ۔ بیمار اور مسافر روزہ نہ رکھیں بیمار اور مسافر کے روزہ رکھنے کا ذکر تھا ۔حضرت مولوی نورالدین صاحب نے فرمایا کہ شیخ ابن عربی کا قول ہے کہ اگر کوئی بیمار یا مسافر روزہ کے دنوں میں روزہ رکھ لے تو پھر بھی اسے صحت پانے پر ماہ رمضان کے گذرنے کے بعد روزہ رکھنا فرض ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے ۔ فَمَن کانَ منکُم مَّریضًا آوعلیٰ سَفَرِِ فَعدَّ ۃٌ مّن اَیَامِِ اُخَرَ ( البقرۃ : ۱۸۵) جو تم میں سے بیمار ہو یا سفر میں ہو وہ ماہ رمضان کے بعد کے دنوں میں روزے رکھے ۔اس میں خدا تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ جو مریض یا مسافر اپنی ضد سے یا اپنے دل کی خواہش کو پورا کرنے کے لئے انہی ایام میں روزے رکھے تو پھر بعد