اخراجات کے معاملہ میں ان لوگوں کو صحابہ ؓ کا نمونہ اخیتار کرنا چاہئیے کہ وہ فقروفاقہ اُٹھاتے تھے اور جنگ کرتے تھے ۔ادنی سے ادنی معمولی لباس کو اپنے لئے کافی جانتے تھے اور بڑے بڑے بادشاہوں کو جا کر تبلغ کرتے تھے ۔یہ ایک بہت مشکل راہ ہے ۔قبل امتحان کسی کے متعلق ہم کوئی رائے نہیں لگا سکتے اور میں جانتا ہوں کہ اس امتحان میں بعض مدعی کچے نکلیں گے ۔ اب تک جس قدر درخواستیں آئی ہیں میں اُن سب پر نیک ظن رکھتا ہوںکہ وہ عمدہ آدمی ہیں اور صابر اور شاکر ہیں ۔لیکن بعض ان میں سے بالکل نواجوان ہیں ۔نیز عرفًا اور شرعاً لازم ہے کہ ان کے واسطے ہم قوت لایموت کا فکر کریں گوہر جگہ جہاں وہ جائیں گے میں دیکھتا ہون کہ ہماری جماعت میں وہ بات پائی جاتی ہے جو اخوت اسلامی کے واسطے ضروری ہے ہماری جماعت کے لوگ ان کی خدمت کریں گے ۔ مگر پہلے سے اُن کے واسطے اسی جگہ انتظام مناسب ہو جانا بہتر ہے ۔ واعظ ایسے ہونے چاہئیں جن کی معلومات وسیع ہوں ۔ حا ضر جواب ہوں ۔صبر او ر تحمل سے کام کرنے والے ہون ۔ کسی کی گالی سے افروختہ نہ ہو جائیں ۔اپنے نفسانی جھگڑوں کو درمیان میں نہ ڈال بیٹھیں ۔خا کسار انہ اور مسکینانہ زندگی بسر کریں ۔سعید لوگوں کو تلاش کرتے پھریں ۔جس طرح کہ کوئی کھوئی ہوئی شئے کو تلاش کرتا ہے ۔ مفسدہ پرداز لوگوں سے الگ رہیں ۔ جس کسی گاؤں میں جائیں وہاں دو چار دن ٹھہر جائیں ۔ جس شخص میں فساد کی بد بوُ پائیں اس سے پرہیز کریں کچھ کتابیں اپنے پاس رکھیں جو لوگوں کو دکھائیں جہاں مناسب جانیں وہاں تقسیم کر دیں ۔ یہ عمدہ صفات سید سرور شاہ صاحب میں پائے جاتے ہیں اور کشمیر کے واسطے مولوی عبداللہ صاحب اس کام کے لئے موزوں معلوم ہو تے ہیں ۱؎ ۔ بلا تاریخ بیوگان کا نکا ح ایک شخص کا سوال حضرت اقدس کی خدمت میں پیش ہوا کہ بیوہ عورتوں کا نکاح کن صورتوں میں فرض ہے ۔اس کے نکاح کے وقت عمر اولاد موجودہ اسباب نان ونفقہ کا لحا ظ رکھنا چاہئیے یا کہ نہیں ؟ یعنی کیا بیوہ باوجود عمر زیادہ ہونے کے یا اولاد بہت ہونے کے یا کافی دولت پاس ہونے کے ہر حالت میں مجبور ہے کہ اس کا نکاح کیا جائے ؟ فرمایا : ۔