لفظ آجاوے تو اس کا اور ہی مطلب بتاتے ہیں کہ آسمان پر مع جسم عنصری کے چڑھ گیا۔ حضرت یوسفؑ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جب یہ لفظ آجاوے۔ تب تو وفات کے معنی وہی موت کئے جاتے ہیں۔ افسوس! چاہیئے تو تھا کہ اگر معنی بدلنے ہی ہوتے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بدلے جاتے۔ آسمان پر جانا ناممکن ہے۔ فرمایا:قرآن شریف تو بتاتاہے کہ آسمان پر جانا تمہارا ناممکن ہے ۔ جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کہدے کہ میں ایک بشر رسول ہوں۔ میں آسمان پر کیونکر چلا جائوں اور پھر قرآن شریف میں ہے مُسْتَقَرٌوَّ مَتَاعٌ اِلٰی حِیْنٍ(البقرۃ :۳۷) معراج کی حقیقت :۔ پھر فرمایا کہ :مخالف مولوی ہماری مخالفت میں معراج کی حدیث پیش کرتے ہیں حالانکہ حضرت عائشہؓ کا مذہب تھا کہ جو کوئی کہتاہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مع جسم عنصری آسمان پر گئے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر تہمت لگاتاہے ۔ اسی طرح اور ائمہ اور اصحاب کرام ؓ کا بھی یہی مذہب رہا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک نورانی جسم کے ساتھ آسمان پر گئے نہ اس جسم کے ساتھ۔ ایسا ہی شاہ ولی اللہ صاحب کا بھی مذہب تھا۔ اور شاہ عبدالعزیز بھی یہی لکھتے ہیں کہ اس جسم کے ساتھ آسمان پر جانا نہیں ہوتا بلکہ ایک اور نورانی جسم ملتاہے جس سے کہ انسان آسمان پر جاتاہے ۔ بندہ کی فضیلت الہام میں نہیں ، اعمال صالحہ میںہے : ایک شخص نے تحریر کیا کہ یہاں اور بہت لوگوں کو الہام ہوتاہے ۔ مجھ کو خواب تک نہیں آتی ۔ آپ دُعا کریں کہ مجھ کو بھی الہام ہوا کریں کیونکہ میری عمر کا ایک بہت بڑا حصہ اس میں گذراہے۔ اس لئے کوئی ایسی بات بتائیں جس سے میری مراد پوری ہو جاوے۔ اس پر جو حضرت نے حکم تحریر کیا ہے وہ اس قابل ہے کہ ناظرین رسالہ ہذا بھی اس سے مطلع کئے جاویں ۔ کیونکہ یہ اس امام برحق کے الفاظ ہیں جس کا ایک ایک لفظ ہمارے لیے جو اہرات سے بڑھ کر قیمت رکھتاہے۔ (ایڈیٹر تشحیذ) حضرت علیہ السلام نے جواب دیا:۔