یہاں تو معاملہ ہی اور ہے اور اس کے شرائط اور آثار بھی الگ ہیں ۔ا س جگہ بڑی عقلمندی درکار ہے ۔بدر کی لڑائی سے پہلے ایک عورت نے خواب میں دیکھا کہ بکرے ذبح ہو رہے ہیں تو ابو جہل سنکر کہنے لگا ایک اور نبیہ ہمارے گھر میں پیدا ہو گئی ہے۔
چاہئیے کہ انسان اپنی حالت کو دیکھے اور اپنے اس تعلق کو دیکھے جو وہ خدا تعالیٰ سے رکھتا ہے اور اپنے نفس کا مطالعہ کرے کہ کہاں تک عملی حالت درست ہوئی ہے ۔یہ نہیں کہ مجھے سچی خواب آگئی ہے ۔یہ دنیا میں ہو تا ہی رہتا ہے ۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ فرعون کو بھی خواب آیا تھا اور حضرت یوسف علیہ السلام نے بھی بادشاہ وقت خواب کی تعبیر کی تھی ۔ بہتر سے لوگ ہماری جماعت میں ایسے پائے جاتے ہیں جو بڑے بڑے الہامات لکھ کر بھیج دیتے ہیں ۔اور اپنی بڑی بڑی خوابیں اور رؤیا بیان کرتے ہیں اور اُن کی حالت دیکھ کر مجھے اندیشہ ہی رہتا ہے کہ کہیں ٹھوکر نہ کھاویں ۔ان کی نسبت تو سادہ طبع لوگ ہی اچھے ہوتے ہیں ۔ غرض ایسی
تمنا ہی نہیں کرنی چاہئیے ۵؎
( قبل نماز عصر )
جماعت کے واعظین اور مبلغین کی صفات
فرمایا : ۔
میں واعظین کے متعلق دیگر لوازمات کے سوچنے میں مصروف ہوں ۔بالفعل بارہ آدمی منتخب کر کے روانہ کئے جائیں اور یہاں قریب کے اضلاع میں بھیجے جائیں۔بعد میں رفتہ رفتہ دوسری جگہوں میں جا سکتے ہیں ۔ان کا اختیار ہو گا کہ مثلاً ایک دو ماہ باہر گذاریں اور پھر دس پندرہ روز کے واسطے قادیان آجائیں ۔
اس کام کے واسطے وہ آدمی موزوں ہوں گے جو کہ مَن یَتَّقِ وَیَصبر ( یوسف :۹۱) کے مصداق ہوں ان میں تقویٰ کی خوبی بھی ہو اور صبر بھی ہو۔ پاک دامن ہوں ۔فسق وفجور سے بچنے والے ہوں ۔معاصی سے دور رہنے والے ہوں لیکن ساتھ ہی مشکلات پر صبر کرنے والے ہوں ۔لوگوں کی دشنام وہی پر جوش میں نہ آئیں ۔ ہر طرح کی تکلیف اور دکھ برداشت کر کے صبر کریں ۔ کوئی مارے تو بھی مقابلہ نہ کریں جس سے فتنہ وفساد ہوجائے ۔ دشمن جب گفتگو میں مقابلہ کرتا ہے تو وہ چاہتا ہے کہ اسے جوش دلانے والے کلمات بولے جن سے فریق مخالف صبر سے باہر ہو کر اس کے ساتھ آمادہ بجنگ ہو جائے ۔