سچی خوابیں اور پھر دوسری تباہی یہ آ رہی ہے کہ جس شخص کو کوئی سچی خواب یا رؤیا یا الہام ہو تا ہے وہی آپنے آپ کو مامور من اللہ اور رسول سمجھنے لگ جاتا ہے۲؎۔ کوئی پچاس آدمی کے قریب ہوں گے جو اسی طرح ہلاک ہو رہے ہیں اور خلق خدا کو راہ راست سے پھیر رہے ہیں اور اس زمانہ میں ایسی باتوں کا وہ چرچا پھیل گیا ہے کہ پہلے زمانوں میں اس کی نظیر نہیں ملتی ۔ایک ہندوں میرے پاس آیا اور بیان کیا کہ فلاں آدمی کی تبدیلی کی نسبت میں نے خواب دیکھی تھی پھر ویسے ہی ظہور میں آگئی تھی اور طاعون کی نسبت بھی پہلے ہی سے خواب دیکھی ہوئی تھی ۔ میں نے اس کو جواب دیا کہ انہی باتوں نے ہی تجھے ہلاک کرنا ہے ۔ ایسے ہی ایک چوہڑی اپنی خوابیں بیان کیا کرتی تھی جو اکثر سچی ہوا کرتی تھیں ۔ایسے ہی آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ابو جہل کو بھی خوابیں بیان کیا کرتی تھی جو اکثر سچی نکل آتی تھیں۳؎ہر ایک اس فرق کو معلوم نہیں کر سکتا ۔ایسی خوابوں وغیرہ پر اپنے آپ کو پاک صاف نہیں سمجھ لینا چاہئیے ۔بلکہ اپنی عملی حالت کو پاک کرنا چاہے جیسے فرما یا اللہ تعالیٰ نے قَد آفلَحَ مَن تَزَکیٰ ُ ُ ( الا علی :۵) اپنی حالت کا بہت مطالعہ کرنا چاہیے اور ایسی باتوں کی خواہش بھی نہیں کرنی چاہیے۔اگر تخم ریزی سے ہی انسان سمجھ لے کہ میں رسول ہوں تو ٹھوکر کھائیگا ۴؎