گیدڑ بھی اس بیماری سے مرتے ہوئے دکھائی دئیے ہیں ۔ یہ خدا تعالیٰ کا غضب سخت ہے کہ کوئی ایسی بیماری نہیں جو جانوروں اور آدمیوں اور چرندوں اور پرندوں سب پر اس طرح مساوی پڑے اور سب کا تباہ کر دیوے ۔۲؎
۲۹ستمبر ۱۹۰۷ء
بوقت ظہر )
اس زمانہ میں ایک رسول کے آنیکی پیشگوئی
طاعون کے ذکر پر فرمایا کہ :۔
اس عذاب کی اللہ کریم نے پہلے ہی سے قرآن مجید میں خبر دے رکھی ہے ۔جیسے فرمایا :۔
وَان مِّن قَریَۃِِ اِلَّا نَحنُ مُھلکُو ھَا قَبلَ یَومِ القِیَامَۃِ آو مُعَذِبُوھَا عَذَابًا شَدیداً ۔ ( بنی اسرائیل : ۵۹)
اور پھر ساتھ ہی قرآن مجید میں لکھا ہے ومَا کُنَّا مُعَذِبین حَتّٰی نَبعَثَّ رَسُولاً ( بنی اسرائیل :۱۶)
اگر ان دونو آیتوں میں ملا کر پڑھا جاوے تو صاف ایک رسول کی نسبت پیشگوئی معلوم ہوتی ہے اور صاف معلوم ہوتا ہے کہ رسول کا آنا اس زمانہ میں ضروری ہے یہ کہنا کہ فلاں فلاں رسول کے زمانہ میں یہ یہ عذاب آئے ان لوگوں کے خیال کے بموجب تو جب گکل دنیا میں عذاب شروع ہو گیا اس وقت کوئی رسول نہ آیا اس بات کا کیا اعتبار رہا کہ پہلے زمانہ میں جو عذاب آئے تھے اُن رسولوں کے انکار سے ہی آئے تھے کیسی صاف بات تھی کہ آخری زمانہ میں سخت عذاب آئیں گے اور ساتھ ہی یہ لکھا تھا کہ جب تک رسول مبعوث نہ کر لیں عذاب نہیں بھیجتے ہیں ۔اس سے بڑھ کر صاف پیشگوئی اور کیا ہو سکتی ہے ۱؎؟زمانہ کی موجودہ حالت بھی اس بات کو ظاہر کر رہی ہے کہ کوئی رسول آوے سب دنیا اسباب پر ہی گر گئی ہے ۔اصلی مسبب الاسباب کو باکل بُھلا دیا ہے ۔