دیکھو ۔قرآن شریف میں صاف لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ کو قرض حسنہ دو ۔اس وقت بھی بعض نادان لوگ کہنے لگ گئے تھے اب خدا مفلس اور محتاج ہو گیا ہے ۔ خوب یاد رکھو کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ایسے الفاظ استعمال نہ کرتا اصلیت دیکھنی چاہئیے ۔قرض کا مفہوم تو صرف اس قدر ہے کہ وہ شئیے جس کے واپس دینے کا وعدہ ہو ۔ضروری نہیں کہ لینے والا مفلس بھی ہو ۔ایسی باتیں ہر کتاب میں پائی جاتی ہیں ۔ حدیث شریف میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کو لوگوں کو کہے گا کہ میں بھوکا تھا تم نے مجھے کھانا نہ کھلا یا ۔ میں بیمار تھا تم نے بیمارپرسی نہ کی ۔وغیرہ وغیرہ ۔یہ تو سب استعارات ہوتے ہیں ۔ ۱؎
طاعون کی جگہ چھوڑنا چاہئیے
حکیم محمد حسین صاحب قریشی کا مخا طب کر کے فرمایا کہ :۔
لاہور میں اکتوبر کے ماہ میں طاعون کا خوف معلوم ہوتا ہے ۔ آپ ہمارے پہلے اصول کو یاد رکھیں کہ جب ارد گرد طاعون کا غلبہ ہو یا مکان میں چوہے مریں تو فوراً اس مکان کو چھوڑ دو اور شہر سے باہر کہیں کھلی ہوا میں اپنے لئے جگہ بناؤ ۔باہر نکل کر بھی اس امر کی احیتاط کرنی چاہئیے کہ پھر ایک ہی جگہ بہت سے آدمی جمع ہو کر وہی صورت خراب ہوا کی پیدا نہ کر لیں جو شہر میں تھی ۔سنت انبیاء یہی ہے کہ ایسی جگہ سے بھاگ جانا چاہئیے ۔خدا تعالیٰ کا مقابلہ کرنا اچھا نہیں ۔
چوہوں کو ختم کرنے کا بہتر ذریعہ
ایک شخص کا ذکر ہوا کہ واس گاؤں میں سرکار کی طرف سے پنجرے لے کر آیا ہے کہ چوہوں کو مار ا جائے ۔
فرمایا :۔
ہمارے گھر میں تو ایسے موقعہ پر بلیاں جمع ہو جاتی ہیں ۔ پنجروں کی نسبت بلیوں کی خدمات ایسے موقعوں پر بہتر معلوم ہوتی ہیں کیونکہ بلی کے خوف سے چوہے بھاگ جاتے ہیں ۔
طاعون ایک خوفناک بیماری
فرمایا :۔
طاعون ایک بے نظیر وبا ہے ۔اس کے اثر سے نہ صرف انسان مرتے ہیں بلکہ جانوروں پر بھی پرتی ہے ۔ سرگودھا کے علاقہ سنا گیا ہے کہ جنگل میں گلہریاں بھڑئیے اور