پر ٹھہرنے سے منع کیا تھا جہاں پہلے ایک دفعہ عذاب آچکا تھا ۔ قہر الٰہی بھی بھڑکنے والا ہے فرمایا : ۔ طاعون کیسا قہر الٰہی ہے کہ ہر سال سر پر آجاتی ہے اور پھر ایسی آتی ہے کہ لوگ دیوانہ کی طرح ہو جاتے ہیں اور میں نے یہ بھی سنا ہے کہ بعض آدمی قبریں پہلے ہی سے کھو د رکھتے ہیں بڑے ہی خوفناک دن ہوتے ہیں اور خدا تعالیٰ نے یہ جو دوبارہ فرمایا ہے کہ گذشتہ طاعون کی نسبت آئندہ شدت سے طاعون کا حملہ ہونے والا ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابھی نہایت ہی خطر ناک دن آنے والے ہیں اور آگے کی نسبت سخت زور سے طاعون پھیلنے والی ہے ۔ فرمایا :۔ بالفرض اگر کسی انسان کا گھر محفوظ بھی رہے ۔مگر سجے کھنے دائیں بائیں چیک چہاڑ اور شور غوغا ہو تو وہ بھی ایک مصیبت ہے ۔ فرمایا :۔ خدا تعالیٰ کے الہام کے مطابق سخت اندیشہ ہے کہ اب کے سال ہی یا دوسرے ایسی سخت طاعون پڑے کہ پہلے نہ پڑی ہو ۔ اس لیے یہ دن نہایت خوف کے دن ہیں ۔ طاعون کی نسبت خدا تعالیٰ نے فرمایا ہوا ہے کہ میں روزہ بھی رکھوں گا اور افطاری بھی کروں گا ۔ کلام الٰہی میں استعارات اس پرا یک شخص نے عرض کی کہ بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ خدا بھی اب روزے رکھنے لگ گیا ہے ۔ فرمایا :۔ ساری کتابوں میں اس قسم کے فقرات پائے جاتے ہیں ۔ فَاذ کُرُوا اللّٰہَ کَذِکُم اٰبَآئُ کُم آو آشَّدَّ ذکراً(البقرۃ:۲۰۱)اور یَدُاللّٰہِ فُوقَ آیدِیھم ( الفتح : ۱۱ ) ایسے فقرات قرآن مجید میں لکھے ہیں ۔ حدیث شریف میں لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ تردو کرتا ہے ۔ توریت میں لکھا ہے خدا طوفان لا کے پھر پچھتایا۔ یہ تو استعارات ہوتے ہیں ۔ ان پر اعتراض کرنے کے معنے ہی کیا ۔بلکہ ان سے تو سمجھا جاتا ہے کہ یہ خدا کا کلام ہے اس بات کو سوچنا چاہئییے کہ بناوٹ والے انسان کو کیا مشکل بنی ہے جو وہ جان بوجھ کر ایسی باتیں کرے جن پر خواہ نخواہ اعتراض ہوں ۔