مصروف ہیں ۔کوئی صدقہ وخیرات کر رہے ہیں ۔ کوئی بیکسوں اور یتیموں کی مدد کر رہے ہیں ۔غرض توبہ اور استغفار کا بازار گرم ہے ۔تب اس نے سمجھا کہ انہیں کی خا طر یہ شہر بچا ہوا ہے ۔یہ سنت اللہ ہے کہ ابرار خیار کے واسطے بڑے بڑے بد کار اور بد معاش آدمی بھی بچائے جاتے ہیں ۔ یاد رکھو کہ کچھ نہ کچھ نیک لوگ بھی ضرور مخفی ہوتے ہیں ۔اگر سب ہی بُرے ہوں تو پھر دنیا ہی تباہ ہو جاوے ۱؎ ۲۸ستمبر ۱۹۰۷؁ء ( بواقت عصر ) طاعون سے بچنے کے لئے حفظ ماتقدم کسی نے ٹیکہ لگوانے کی بابت دریافت کیا ۔ فرمایا :۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ کوئی بیماری نہیں جس کی دوانہ ہو ۔ ٹیکہ بھی ایک دوا ہے مسلمانوں کو اگر وہ مسلمان بن جاویں تو خدا تعالیٰ ہی ان کا ٹیکہ ہے ۔ چاہئیے کہ جس جگہ بیماری زور پکڑ جاوے وہاں نہ جاویں اور جس جگہ ابھی ابتدائی حالت ہو تو وہاں سے باہر کُھلی ہوا میں چلے جائیں۔ مکان بدن اور کپڑے کی صفائی کا بہت خیال رکھیں کوشش تو اس کے روکنے کی بہت ہو رہی ہے مگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں بار بار فرمایا ہے ۔ انَّ اللّٰہَ لَا یُغَیرُ مَا بِقُومِِ حَتُٰی یُغَیّرُ و اما باَنفُسھمِ ( الرعد : ۱۲) یار رکھیں کہ اللہ تعالیٰ اس حالت کو نہیں بد لائے گا جب تک دلوں کی حالت میں یہ لوگ خود تبدیلی نہ کریں مجوزوں نے سب زور اسباب کے مہیا کرنے میںلگا دیا ہے ۔اگر یہ ہماری دور بھی ہو جاوے تو ممکن ہے کوئی اور بلا آجاوے ۔توکل کی جوبات خدا تعالیٰ نے ہمیں سکھائی ہے وہ ان کے وہم میں بھی نہیں آتی ہو گی ۔ اگر اساب اور دوسری باتوں پر اتنا بھروسہ کیا گیا تو شاید کوئی اور وبا آجاوے ۔ ہماری جماعت کے لئے بہت بہتر ہے کہ جس جگہ کوئی چوہامرے تو وہاں سے نکل جاوے ۔ اور دور اندیشی تو یہ ہے کہ پہلے ہی سے جگہ تجویز کر لی جاوے اور عام میل جول نہ رکھے ۔صرف اپنے زیادہ قریبیوں اور دوستوں سے ملاقات رکھنی چاہئیے ۔ایسے دنوں میں کثرت سے پرہیز کرنی چاہئیے اور گندی اور زہریلی ہوا سے علیحدہ رہنا چاہئیے ۔خدا تعالیٰ بھی فرماتا ہے ۔ وَالرُّجزَفَا ھجُر ( المدثر:۶) اور آنحضرت ﷺ نے بھی ایک ایسی جگہ