ایمان ہے کہ پھر بہت برکت ہوگی ۔ میں تو جانتا ہوں کہ وہ اولیاء اللہ میں داخل ہو جائے گا ۔یاد رکھو ایک قدم سے ہی انسان ولی بن جاتا ہے جب غیر اللہ کی شراکت نکال لی بس عبادالرحمن میں داخل ہو گیا ۔ جب اس کے دل میں محض خدا ہی خدا ہے اور کچھ نہیں تو پھر ایسے کوہی ہم ولی کہتے ہیں دیکھو ۔صادق کے واسطے یہ کوئی مشکل کام نہیں ۔اس میں ایک کشش ہوتی ہے وہ خالی جاتا ہی نہیں ۔ دنیا کی زندگی کا آرام ہو ۔ ہر طرح سے آسودگی اور عیش وعشرت کے سامان ہوں ۔یہ ایمانی اُصول کے مخالف پڑا ہوا ہے ۔ ایمانی اصول تو چاہتا ہے کہ ایسے لوگوں کا نہ دن نہ رات کوئی وقت آرام سے گذرتا ہی نہیں ۔ایک مرحلہ مصائب کا اگر طے کرتے ہیں تو دوسرا مرحلہ درپیش ہوتا ہے ۔ کاش اگر صحابہ ؓ کی طرح بعد میں آتے تو ایک بھی کافر نہ رہتا مگر وہ دل نہ ہوئے جو اُن کے تھے ۔وہ اخلاص اور صدق نہ ہو ا جوان کا تھا وہ تقویٰ اور استقلال نہ رہا جو اُن کا تھا ۔ تبلیغ کا صحیح طریق ہماری جماعت کے لو گ گومالی امداد میں تو کچھ فرق نہیں کرتے مگر اللہ تعالیٰ تو ہر امر میں ازمانا چاہتا ہے ۔ اب تلوار کی بجائے گالیاں کھا کر صبر کرنا چائییے کہ بڑی نرمی اور خو ش خلقی سے لوگوں پر اپنے خیالات ظاہر کئے جاویں ۔ بہ نسبت شہروں کے دیہات کے لوگوں میں سادگی بہت ہے اور ہمارے دعویٰ سے بہت کم واقفیت رکھتے ہیں ۔اگر ان کو نرمی سے سمجھا جاوے تو اُمید ہے کہ سمجھ لیں گے ۔جلسوں کی بھی ضرورت نہیں اور نہ ہی با زاروں میں کھڑے ہو کر لیکچر دینے کی ضرورت ہے کیونکہ اس طرح سے فتنہ پیدا ہوتا ہے ۔چائییے کہ ایک ایک فرد سے علیحدہ علیحدہ مل کر اپنے قصے بیان کئے جاویں ۔ جلسوں میں تو ہار جیت کا خیال ہو جاتا ہے ۔ چاہئیے کہ دوستانہ طورپر شریفوں سے ملاقات کرتے رہیں اور رفتہ رفتہ موقعہ پا کر اپنا قصہ سنا دیا ۔بحث کا طریق اچھا نہیں بلکہ ایک ایک فرد سے اپنا حال بیان کیا اور بڑی آہستگی اور نرمی سے سمجھانے کی کو شش کی ۔ پھر تو دیکھو گے کہ بہت سے آدمی ایسے بھی نکلیں گے جو کہیں گے کہ ہم پر تو ان مولویوں نے اصلیت ظاہر ہی نہیں ہونے دی ۔چاہئیے کہ جس شخص میں علم اور رُشد کا مادہ دیکھا اسی کو اپنا قصہ بتا دیا اور فرد اً فرداً واقفیت بڑھاتے رہے ۔یہ نہیں کہ سب کے سب ظالم طبع اور شر یر ہوتے ہیں بلکہ شریف اور مخلص بھی انہیں میں چھپے ہوئے ہوتے ہیں ۔ لاہور کے ایک شخص نے رات کے پہلے حصہ میں کشف میں دیکھا کہ زنا فسق فجور ۔بدکاری اور بے حیائی کا بازار بڑا گرم ہے ۔تب وہ جاگا اور خیال کیا کہ اگر ایسا ہی حال ہے تو یہ شہر تباہ کیوں نہیں ہوتا ۔ مگر جب وہ تہجد کی نما ز پڑھ کر پچھلی رات کو پھر سویا تو کیا دیکھتا ہے کہ صدہا آدمی ہیں جو دعاؤں میں مشغول ہیں اور خدا تعالیٰ کی یاد میں