جاتے ۔کیونکہ شر جب بہت بڑھ جاتا ہے تو اس وقت تھوڑی سی نیکی کی بھی بڑی قدر ہوتی ہے ۔وہ لو گ جن کو منافق کہا گیا ہے ۔ اصل میں وہ بڑے بڑے صحابہ ؓ کے مقابل پر منافق تھے ۔ یا د رکھو جس شخص نے خدا تعالیٰ کے ساتھ کچھ حصہ شیطان کا ڈالا وہی منافق ہے ۔
فرمایا : ۔
قرآن شریف میں ہماری جماعت کی نسبت لکھا ہے :۔
وَآخرینَ منھُم لَمَّا یَلحَقُوا بھُم (الجمعۃ :۴)
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ ؓ میں سے ایک اور گروہ بھی ہے مگر ابھی وہان سے ملے نہیں ۔ان کے اخلاق ۔عادات ۔صدق اور اخلاص صحابہ ؓ کی طرح ہوگا ۔
جماعت کے مبلغین کی صفات
میرا دل گوار ا نہیں کرتا کہ اب دیر کی جاوے ۔چاہئیے کہ ایسے آدمی منتخب ہوں جو تلخ زندگی کو گوار ا کرنے کے لئے تیار ہوں اور اُن کو باہر متفرق جگہوں میں بھیجا جاوے ۔بشرطیکہ ان کی اخلاقی حالت اچھی ہو ۔تقویٰ اور طہارت میں نمونہ بننے کے لائق ہوں مستقل راست قدم اور بردبار ہوں اور سات ہی قائع بھی ہوں اور ہماری باتوں کو فصاحت سے بیان کر سکتے ہوں مسائل سے واقف اور متقی ہوں کیونکہ متقی میں ایک قوت جذب ہوتی ہے ۔وہ آپ جاذب ہوتا ہے ۔وہ اکیلا رہتا ہی نہیں ۔
جس نے اس سلسلہ کو قائم کیا ہے ۔اس نے پہلے ازل سے ہی ایسے آدمی رکھے ہیں جو بکلی صحابہ ؓ کے رنگ میں رنگیں اور انہیں کے نمونہ پر چلنے والے ہوں گے اور خدا تعالیٰ کی راہ میں ہر طرح کے مصائب کو برداشت کرنے والے ہوں گے اور جو اس راہ میں مر جائیں گے وہ شہادت کا درجہ پائیں گے ۔
دین کی حقیقت
اللہ تعالیٰ نرے اقوال کو پسند نہیں کرتا ۔ اسلام کا لفظ ہی اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ جیسے ایک بکرا ذبح کیا جاتا ہے ویسے ہی انسان خدا تعالیٰ کی راہ میں جان دینے کے لئے تیار رہے ۔آنحضرت ﷺ کے پاس ایک قوم آئی اور کہنے لگی کہ ہمیں فرصت کم ہے ہماری نما زیں معاف کی جائیں ۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا وہ دین ہی نہیں جس میں نمازیں نہیں ۔ جب تک عملی طور پر ثابت نہ ہو کہ خدا تعالیٰ کے لئے تکلیف گوار ا کر سکتے ہیں تب تک نرے اقوام سے کچھ نہیں بنتا۔نصاریٰ نے بھی جب عملی حالت سے لا پرواہی کی تو پھر ان کی دیکھو کسی حالت ہوئی کہ کفارہ جیسا مسئلہ بنا لیا گیا ۔
صدق دل سے ایک ہی قدم میں ولی بن سکتے ہو
اگر آدمی صدق دل سے محض خدا تعالیٰ کے لئے قدم اُٹھائے تو میرا