اور یہ اچھا کام ہے مگر وہ محض للہ نہیں بھیجتے کیونکہ اُن کا خیال ہوتا ہے کہ جو سرکاری تعلیم اور جماعت بندی اور دوسرے قواعد دیگر سکولوں میں ہیں وہی یہاں بھیجتے وقت دنیا وی تعلیم کا بھی خصوصیت سے خیال رکھ لیتے ہیں ۔ا ور جانتے ہیں کو جو تعلیم دوسرے سکولوں میں ہے وہی یہاں ہے مگر تاہم بھی نیک نیتی کی بناء پر یہ سب عمدہ باتیں ہیں اور سے کچھ عمدہ نتیجہ ہی نکلنے کی توقع ہے ۔ا ور یہاں کے سکول میں تعلیم پانے سے اتنا فائدہ تو ضرور ہے کہ دن رات نیکو کاروں اور صادقوں کی صحبت میں رہنا پڑتا ہے عمدہ عمدہ کتابوں اور ہماری تصانیف کے پڑھنے کا موقعہ بھی ملتا رہتا ہے اور مولوی ( نورالدین ) صاحب کی عمدہ عمدہ باتوں اور نصیحتوں اور درس کے سننے سے بہت فائدہ ہوتا ہے اور جب پچپن سے ہی ان طالب علموں کے کانوں میں صالح اور راستباز استادوں کی آواز پڑتی ہے تو اس سے وہ متا ثر ہوتے ہیں اور آہستہ آہستہ دینداری کی طرف ترقی کرتے رہتے ہیں ۔ غرض یہ سچی بات ہے کہ اس مدرسہ کی بناء فائدہ سے خالی نہیں ۔اگر تین یا چار سو لڑکا تعلیم پاتا ہو اتنی امید ہے کہ تیس یا چالیس ہماری منشا کے مطابق بھی نکل اویں گے ۔
صحابہ رضی اللہ عنھم کا نمونہ اخیتار کرو
مگر جو بات ہم چاہتے ہیں وہ اس سے پوری نہیں ہو سکتی کیونکہ خواہ کچھ ہی ہو یہ باتیں ملونی سے خالی نہیں ہمارا مطلب اس بات کے بیان کرنے کا یہ ہے کہ خدا تعالی جس نمونہ پر اس جماعت کو قائم کرنا چاہتا ہے وہ صحابہ رضی اللہ عنہم کا نمونہ ہے ۔ ہم تو منہاج نبوت کے طریقہ پر ترقیات دیکھنی چاہتے ہیں ۔موجود کاروائی کا خالص کاروائی نہیں کہہ سکتے ۔ہزار ہا مرتبہ رائے زفی کی جائے اصل میں جیسا کہ میں نے کل تھا ابھی تو پانی کے ساتھ پیشاب کی طونی ہے ۔
غرض اس طرح کی تعلیم ہماری ترقیات کے لئے کافی نہیں ہمارے سلسلہ کو تو صر اخلاص صدق اور تقویٰ جلد ترقی دے سکتا ہے ۔آنحضر ت ﷺ کے صحابہ ؓ ایک لاکھ سے متجاوز تھے ۔میرا ایمان ہے کہ ان میں سے کسی کا بھی ملونی والا ایمان نہ تھا ۔ایک بھی ان میں سے ایسا نہ تھا جو کچھ دین کے لئے ہوا اور کچھ دنیا کے لئے بلکہ وہ سب کے سب خدا تعالیٰ کی راہ میں جان دینے کے لئے تیار تھے جیسے کہ خدا تعالیٰ فرما تا ہے :۔
نَمنھم مَّن قَضٰی نَحبَہُ وَمنھُم مَّن یَّنتظِرُ ( الاحزاب : ۲۴)
منافق کون ہوتا ہے
جو لوگ ملونی والے ہوتے ہیں ان کو خدا تعالیٰ نے منا فق کہا ہے بیعت کرنے والوں کو خوش نہیں ہونا چاہئیے کیونکہ منافق وہ لوگ ہیں جنہوں نے کچھ ملونی کی ۔
آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں جو منافق تھے اگر وہ اس زمانہ میں ہوتے تو بڑے بزرگ اور مومن سمجھے