سے پرکھا جاوے یا کم ازکم عقل کی رو سے ہی سہی کہ اتنے بچے تھے اور صر ف مبارک کی نسبت ایسا لکھا گیا کوئی انسان عقل سے ایسا کر سکتا ہے ؟ موت فوت کی خبر دینا یہ خدا تعالیٰ کے سوا کسی اور کاکام نہیں خدا تعالیٰ کا فضل ہے جو سب کچھ پہلے ہی ظاہر کر دیا گیا تھا ۔ا ب اگر کہتے تو کون مانتا ۔
سوچنا چاہئیے کہ آیا جو کچھ وفات سے پہلے ظاہر کیا گیا ہے وہ وفات بتلا رہا ہے یا زندگی ؟ ’’ انیَّ آسقُطُ منَ اللّٰہ وَاُصیبُہٗ ‘ تو مبارک کی ولادت سے بھی پہلے کہا گیا تھا ۔ خدا تعالیٰ تو صاف فرماتا ہے ۔ فلا َ یُظھِرُ عَلیٰ غَیبہِ آحَدًا الَّا من ارتضٰی من رَّسوُلِِ ( الجن : 27.28)
ایک الہام
فرمایا :۔
کل ذر اسی مجھے غنودگی ہوئی تو الہام ہو جس کا اتنا حصہ یاد رہا کہ ا نّی مُبَارکٌ‘‘ اس کے معنے بہت ہیں جسے اِنَّ شَانئکَ ھُوَ الاَ بتَرُ ( الکوثر ۴) ہے ویس ہی یہ ہے ۱؎
۲۵ستمبر ۱۹۰۷ء
(بوقت ظہر )
جماعت کے مبلغین کے لئے ضروری صفات
حضرت اقدس نے فرمایا :َ
ایک تجویز کی تھی ۔اگر راست آجاوے تو بڑی مراد ہے یونہی عمر گذرتی جاتی ہے ۔آنحضرت ﷺ کے صحابہ ؓ میں ایک کا بھی نام نہیں لے سکتے ۔جس نے اپنے لیے کچھ حصہ دین کا اور کچھ حصہ دنیا کا رکھا ہوا اور ایک صحابی بھی ایسا نہیں تھا جس نے کچھ دین کی تصدیق کر لی ہو اور کچھ دنیا کی بلکہ وہ سب کے سب منقطعین تھے اور سب اللہ کی راہ میں جان دینے کو تیار تھے ۔اگر چند آدمی ہماری جماعت میں سے بھی تیار ہوں جو مسائل سے واقف ہوں اور اُن کے اخلاق اچھے ہوں اور قانع بھی ہوں تو ان کو باہر تبلیغ کے لئے بھیجا جاوے ۔ بہت علم کی حا جت نہیں ۔آنحضرت ﷺ کے صحابہ ؓ سب اُمیّ ہی تھے ۔حضرت عیٰسی ؑ کے حواری بھی اُمیّ تھے ۔ تقویٰ اور طہارت چاہئیے ۔سچائی کی راہ ایک ایسی راہ ہے جو اللہ تعالیٰ خود ہی عجیب عجیب باتیں سمجھا دیتا ہے ۔
بچوں کو تعلیم کے لئے مرکز میں بھجوانے کا فائدہ
لوگ جو اپنے لڑکوں کو تعلیم دینے کے لیے یہاں کے سکول میں بھیجتے ہیں اگرچہ وہ اچھا کرتے ہیں ۔