کہ کیسے غلیظ کپڑے پہنے ہیں۔ زیور اس کے پاس کچھ بھی نہیں ۔
خاوند کی اطاعت :۔ فرمایا کہ :۔
عورت پر اپنے خاوند کی فرمانبرداری فرض ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اگر عورت کو اس کا خاوند کہے کہ یہ ڈھیر اینٹوں کا اُٹھا کر وہاں رکھ دے اور جب وہ عورت اس بڑے اینٹوں کے انبار کو دوسری جگہ پر رکھ دے تو پھر اس کا خاوند اس کو کہے کہ پھر اس کو اصل جگہ پر رکھ دے تو اس عورت کو چاہیئے کہ چون و چرانہ کرے بلکہ اپنے خاوند کی فرمانبرداری کرے۔
عورتوں کے حقوق۔ فرمایا:
عورتیں یہ نہ سمجھیں کہ ان پر کسی قسم کا ظلم کیا گیا ہے کیونکہ مرد پر بھی اس کے بہت سے حقوق رکھے گئے ہیں بلکہ عورتوں کو گویا بالکل کرسی پر بٹھا دیا ہے اور مرد کو کہا ہے کہ ان کی خبر گیری کر۔ اس کا تمام کپڑا کھانا اور تمام ضروریات مرد کے ذمہ ہیں۔
دیکھو کہ موچی ایک جوتی میں بددیانتی سے کچھ کا کچھ بھر دیتاہے صرف اس لئے کہ اس سے کچھ بچ رہے تو جو روبچوں کا پیٹ پالوں۔ سپاہی لڑائی میں سر کٹاتے ہیں صرف اس لئے کہ کسی طرح جوروبچوں کا گذارہ ہو۔ بڑے برے عہدیدار رشوت کے الزام میں پکڑے ہوئے دیکھے جاتے ہیں۔ وہ کیا ہوتاہے؟ عورتوں کے لئے ہوتاہے ۔ عورت کہتی ہے کہ مجھ کو زیور چاہیئے کپڑا چاہیئے۔ مجبور اً بیچارے کو کرنا پڑتا ہے ۔ لیکن خدا تعالیٰ نے ایسی طرزوں سے رزق کمانا منع فرمایا ہے یہاں تک عورتوں کے حقوق ہیں کہ جب مرد کو کہا گیا ہے کہ ان کو طلاق دو۔ تو مہر کے علاوہ ان کو کچھ اور بھی دو۔ کیونکہ اس وقت تمہاری ہمیشہ کے لئے اس سے جدائی لازم ہوتی ہے۔ پس لازم ہے کہ اُن کے ساتھ نیک سلوک کرو۔
تَوَفی کے معنی
قرآن شریف کے ترجمہ کی بابت ذکر ہوا تو فرمایا:
دیکھو توفی کے معنی ہمارے مخالف مولوی مرنے کے کرتے ہیں۔ لیکن جب مسیح کے بارہ میں یہ