۲۱ ستمبر ۱۹۰۷؁ء ( بوقت ظہر ) سچی خوابوں کے بارہ میں سنت اللہ فرمایا : ۔ سنت اللہ اسی طرح سے جاری ہے اور ہمارا اعتقاد بھی یہی ہے کہ بعض لوگوں کو نہ تو خدا کے ساتھ تعلق ہوتا اور نہ ہی ان کے اخلاق عادات اچھے ہوتے ہیں ۔ مگر جب کسی اپنے پرائے نے مرنا ہو یا کوئی اور ایسا ہی واقعہ ہونا ہو تو بعض اوقات خوابوں کے ذریعہ سے کچھ نہ کچھ اطلاع ہو جاتی ہے یہاں تک کہ ایک چوہڑی کو بھی میں نے دیکھا ہے کہ اس کی اکثر خوابیں سچی نکلا کرتی تھیں ۔ بلکہ ایک پرلے درجہ کی زانیہ اور بد کار عورت کو بھی کچھ نہ کچھ خوابیں آسکتی ہیں اور بازاری عورتیں طوائف وغیرہ بھی اکثر اوقات بیان کیا کرتی ہیں کہ میری فلاں خواب سچی نکلی ۔ ہاں اگر یہ سوال کیا جاوے کہ خدا تعالیٰ نے ایسا کیوں کیا تو اس بات کا جواب یہ ہے کہ تا یہ لوگ ایسا نمونہ پا کر کارخانہ نبوت کو سمجھ لیں اگر ایسا نمونہ نہ ہوتا تو پھر نبیوں کے تعلق کو سمجھنے میں دقت ہوتی ۔ یہ سچی بات ہے کہ کافر فاسق فاجر سب کو سچی خوابیں کبھی کبھی آیا کرتی ہیں اور اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جب تم لوگ باوجود طرح طرح عیبوں فسق وفجور اور دنیا کے گند میں مبتلا ہونے کے ایسی خوابیں دیکھ لیا کرتے ہو تو پھر وہ جو ہر وقت خدا تعالیٰ کے پاس رہتے ہیں اور اسی کے آستانہ پر ہر وقت گرے رہتے ہیں ان کو سچا کیوں نہ سمجھا جائے ۔ ایک دفعہ چند آریہ ہندو ہمارے پاس آئے تھے اور کہنے لگے کہ ہمیں بھی سچی خوابیں آتی ہیں ۔میں نے اُن کو یہی کہا تھا کہ ہم تو مانتے ہیں کہ چوہڑوں اور چماروں کو بھی سچی خوابیں آجاتی ہیں ۔اس سے یہ تو ثابت نہیں ہوتا کہ جس کو سچی خواب آوے ۔اس کی عملی حالت بھی بڑی اعلیٰ ہے اور اس کا دل بڑا پاک ہے بلکہ یہ تو کارخانہ نبوت کو سمجھنے کے لئے ہر ایک کی فطرت میں اللہ تعالیٰ نے ایک مادہ رکھا ہے ۔ مرزا مبارک احمد کی وفات کا نشان فرمایا :۔ مبارک احمد کی نسبت جو کچھ قبل اروقت لکھا گیا تھ اور پھر اس کی والدہ کی نسبت خا ص طور پر الہام ہونا کہ ‘‘ تو بھاری مگر خدائی امتحان کو قبول کر ‘‘ اور پھر چار دفعہ ’’انَّمَا یُریدُاللّٰہُ لیُذھِبَ عَنکُمُ الرِّجسَ اَھلَ البَیتِ وَیُطَھِّر کُم تطھِیراً ‘‘‘ اور پھر ’’لائف آف پین ‘‘ یعنی تلخ زندگی ۔اگر یکجا ئی طور پر ایک دشمن بھی دیکھے تو بجز اس کے کچھ بھی جواب نہیں دے سکے گا کہ خدا تعالیٰ کا ایک نشان ظہور میں آیا ہے ۔ ہاں اگر بے حیائی اور شرارت سے کام لے تو اور بات ہے ۔ چاہئیے کہ منہاج نبوت